دعوتِ سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳
جیسا کہ عرض کیا گیا، میں نے اپنا دعوتی مشن ۱۹۵۰ء میں شروع کیا تھا، اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گذرتا رہا۔ تحریر و تقریر کے ایک مسلسل عمل کی صورت میں وہ برابر جاری رہا۔ یہاں تک کہ اس تحریک کی پشت پر ایک طاقت ور لٹریچر تیار ہوگیا۔ یہ لٹریچر اسلام کے تمام پہلوؤں کو عصری اسلوب میں بیان کرنے والا تھا۔
اس کے بعد تیسرا تاریخ ساز واقعہ یہ ہوا کہ جنوری ۲۰۰۱ء میں ہمارے دہلی کے دفتر میں اسپرچول کلاس کے نام سے ہفتہ وار اجتماع کا سلسلہ قائم ہوا۔ ان ہفتہ وار اجتماعات کے دوران خدا کی غیر معمولی نصرت ظاہر ہوئی۔ چند سال کی مدت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ایک مضبوط ٹیم تیار ہوگئی۔ ان میں سے ہر شخص دعوتی اسپرٹ سے بھرا ہوا تھا اور عمل کا بے پناہ جذبہ اپنے اندر رکھتا تھا۔
۲۰۰۵ء میں یہ تاریخ یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہونا چاہیے اس کا عمل بھی خدا کی خصوصی نصرت سے شروع ہو چکا ہے۔ یعنی دعوت حق کی اشاعت و توسیع۔ مجھے یقین ہے کہ یہ عمل رکنے والا نہیں۔ خدا کی نصرت اس بات کی ضامن ہے کہ یہ عمل رُکے کے بغیر مسلسل جاری رہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
مذکورہ حدیث پر غور کیجئے تو اس معاملے کا ایک عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ جب مذکورہ تقسیم کے مطابق، ایک ٹیم وجود میں آجائے تو اس کے بعد دعوت کی توسیع واشاعت ایک یقینی امر بن جاتی ہے۔ اس کے بعد ممکن طور پر صرف ایک چیز ہے جو اس عمل کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکے، اور وہ حدیث کے الفاظ میں اختلاف کا معاملہ ہے۔ باہمی اختلاف ایسی بری چیز ہے جو پورے نقشے کو تباہ کر سکتا ہے۔ ٹیم بن جانے کے بعد باہمی اختلاف کے سوا کوئی بھی چیز نہیں جو اس دعوتی سیلاب کو اس کی منزل تک پہنچنے سے روک سکے۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ فکر کا اختلاف ایک فطری امر ہے۔ ہر انسانی مجموعے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے افراد کے درمیان فکری اختلافات ظہور میں آتے ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues