Al-Risala · February 2006 · page 44

دعوتِ سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۴

فکری اختلاف کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اُس فن کو نہ جانتے ہوں، جس کو ’’آرٹ آف ڈفرنس مینجمنٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ کسی بھی ٹیم میں رائے کا اختلاف پیدا ہونا لازم ہے۔ البتہ ٹیم کے افراد کو ذہنی طور پر اتنا زیادہ پختہ ہونا چاہیے کہ وہ رائے کے اختلاف اور عملی ٹکراؤ میں فرق کرنا جانیں۔ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر اپنا کام جاری رکھیں۔ رائے کا اختلاف ایک صحت مند علامت ہے۔ کیوں کہ وہ ڈائیلاگ کا سبب بنتا ہے اور ڈائیلاگ فکری ارتقاء کا ذریعہ ہے۔

الرسالہ مشن کے تحت جو پر امن دعوت کا کام کرنا ہے وہ بنیادی طور پر اشاعتِ کتب کا کام ہے۔ یہ کام سب سے پہلے انگریزی کتابوں کی اشاعت سے ہوگا۔ کیوں کہ آج دنیا کی آبادی کا ۶۰ فیصد حصہ انگریزی زبان بولتا اور سمجھتا ہے۔ اس کے بعد حالات کے مطابق، یہ کام دوسری زبانوں تک وسیع ہوگا۔ اس اشاعتی کام کے بنیادی طور پر چندا اجزاء ہیں:

۱۔ قرآن کا صحیح انگریزی ترجمہ کم قیمت پر ساری دنیا میں پھیلانا (قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ خدا کے فضل سے الرسالہ مشن کے تحت زیر تیاری ہے)۔

۲۔ الرسالہ مشن کی مطبوعہ کتابوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا۔ مثلاً: God Arises، تذکیر القرآن، مطالعہ سیرت، مطالعہ حدیث، وغیرہ۔

۳۔ چھوٹے چھوٹے دعوتی پمفلٹ، مثلاً ان سرچ آف گاڈ، کریشن پلان آف گاڈ وغیرہ جو کئی درجن کی تعداد میں چھپ چکے ہیں، ان کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا، یہاں تک کہ وہ تمام تعلیم یافتہ انسانوں تک پہنچ جائیں۔

الرسالہ مشن مکمل طور پر ایک غیر سیاسی مشن ہے۔ اس کا مقصد کوئی اقتدار قائم کرنا نہیں ہے بلکہ صرف خدا کے پیغام کو پر امن انداز میں اور فکری طور پر تمام انسانوں تک پہنچانا ہے اور لوگوں کو خدا کے کریشن پلان سے دلائل کی زبان میں باخبر کرنا ہے۔ تاکہ لوگ حقیقت کو سمجھیں اور صحیح رخ پر اپنے مستقبل کا نقشہ بنائیں۔ دعوت الی اللہ کا یہ فکری مشن خدا کا سب سے زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page