دعوتِ سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۵
مطلوب مشن ہے۔ اس مشن میں خدا کی نصرت ہمیشہ یقینی ہوتی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ خدا کی نصرت کا وعدہ اس مشن پر پورا ہوگا۔ اور وہ وقت آئے گا جب کہ تمام انسانوں تک خدا کا وہ پیغام پہنچ جائے گا جس کے پہنچنے کا ساری کائنات کو انتظار ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام سے زیادہ بڑا کوئی اور کام نہیں، اور خدا کی مدد حاصل کرنے کے لیے دعوت الی اللہ سے زیادہ اور کوئی یقینی ضمانت نہیں۔ یہ خدا کا ابدی قانون ہے۔ اور وہ وقت دور نہیں جب کہ خدا کا یہ وعدہ اپنی کامل صورت میں پورا ہو جائے۔
میں نے اپنی کتاب پیغمبر انقلاب میں لکھا تھا کہ اسلام کے دور اول میں جو لوگ توحید کا انقلاب لائے وہ ایسے لوگ تھے جن پر پچھلی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اب دوبارہ اسی طرح ایک نیا عصابة (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لیے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے۔ کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانے سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں گے اور بالآخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔ (صفحہ ۲۰۴)
میری دعا ہے کہ الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے والے لوگ اس کا مصداق ثابت ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues