Al-Risala · February 2006 · page 46

سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچولیٹی

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۶

سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچولیٹی

سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچولیٹی نئی دہلی میں جنوری 2001 میں قائم ہوا۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، اس کا مقصد امن اور رُوحانیت کو فروغ دینا ہے۔ یہ ایک غیر سیاسی (non-political) آرگنائزیشن ہے۔ اس کا اصل نشانہ فکری انقلاب لانا اور انسان کو حقیقی انسان بنانا ہے۔ اسپرچولیٹی اور پیس دونوں گویا ایک حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ فرد میں مثبت تھنکنگ کا نام اسپرچولیٹی ہے، وہی تھنکنگ جب کلیکٹیو سطح پر پیدا ہو جائے تو اسی کے نتیجے کا نام پیس ہے۔ پیس فل سوسائٹی تمام بڑی ترقیوں کے لیے ضروری ہے۔ مگر پیس فل سوسائٹی بنانے کا آغاز فرد کے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر سے ہوتا ہے۔ جب اس قسم کے افراد بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں تو اُنھیں کے مجموعے کا نام پیس فل سوسائٹی ہے۔

اسپرچولیٹی کو روایتی طور پر ایک ایسا ڈسپلن سمجھا جاتا ہے جو opposed to worldliness ہے۔ یعنی زندگی کو مادیات سے اوپر اٹھانا اور اپنے آپ کو روح (soul) کی سطح پر لے جانا۔ روحانیت کے اس تصور کی بنا پر قدیم زمانے میں ایسا ہوا کہ لوگوں نے رہبانیت کو روحانیت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا۔ یعنی مادی دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلے جانا اور تمدنی ماحول سے الگ تھلگ رہ کر زندگی گزارنا۔

جب آدمی اس طرح کی غیر مادی زندگی کی طرف اپنے آپ کو لے جاتا ہے اور وہ اس میں اپنے آپ کو بہت زیادہ مشغول کرتا ہے تو اس کو داخلی طور پر ایک مجہول فیلنگ کا احساس ہوتا ہے۔ یہ فیلنگ وہی ہے جس کو عام طور پر وجد (Ecstasy) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ وجد مطلوب روحانیت نہیں۔ یہ وجد دراصل روحانیت کی ایک کمتر صورت (reduced form) ہے، وہ اصل روحانیت نہیں۔ انسان کی سب سے بڑی فیکلٹی اس کا دماغ ہے۔ اسی لیے انسان کو''تھنکنگ اینیمل‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں حقیقی روحانیت وہ ہے جو مائنڈ یا تھنکنگ کی سطح پر حاصل ہو۔ جب کہ وجد کا حصول

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page