Al-Risala · February 2006 · page 47

سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچولیٹی

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۷

تھنکنگ کی سطح پر نہیں ہوتا۔ وہ ایک قسم کا تخدیر (psychological anesthesia) ہے۔ وہ شعوری سطح پر حاصل ہونے والی چیز نہیں۔

روحانیت معروف تصور کے مطابق، heart based ڈسپلن نہیں، بلکہ وہ mind based ڈسپلن ہے۔ انسان کا قلب صرف خون کی گردش کا ایک آلہ ہے، وہ تفکیری عمل کا مرکز نہیں۔ اس لیے حقیقی روحانیت وہ ہے جو دماغ کے شعوری عمل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

روحانیت (spirituality) مذہب سے الگ کوئی چیز نہیں۔ روحانیت دراصل مذہب کی اصل اسپرٹ کا نام ہے۔ مذہب کا لفظ عام طور پر فارم یا رسوم (rituals) سے جڑ گیا ہے۔ مگر فارم یا رسوم مذہب کی صرف ایک ظاہری صورت ہے۔ جہاں تک مذہب کی اصل حقیقت کا تعلق ہے وہ عین وہی چیز ہے جس کو روحانیت (spirituality) کہا جاتا ہے۔

روحانیت یا (spirituality) دراصل یہ ہے کہ آدمی حقیقتِ اعلیٰ کی معرفت حاصل کرلے۔ وہ مادی یا حیوانی سطح سے اوپر اٹھ جائے۔ وہ ادنیٰ انسانی سطح سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ انسانی سطح پر جینے والا بن جائے۔

روحانیت مادی دنیا کو چھوڑنے کا نام نہیں، بلکہ روحانیت یہ ہے کہ آدمی مادی دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ مادی واقعات کو روحانی تجربات میں کنورٹ کرتا رہے۔ وہ غیر روحانی کو روحانیت میں کنورٹ کر رہا ہو جس طرح ایک گائے non-milk کو milk میں کنورٹ کرتی ہے۔ کنورژن کا یہ معاملہ شعوری بیداری کے ذریعے ہوتا ہے۔ جب ایک عورت یا مرد کا شعور پوری طرح بیدار ہو چکا ہو تو ایسے لوگ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ مادی چیزوں کو اپنے لیے روحانی غذا بنا سکیں— سینٹر فار پیس اینڈ اسپرچیوٹی کا مقصد اسی قسم کے اعلیٰ مائنڈ کو تیار کرنا ہے۔ اسپرچیوٹی کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ اسپرچیوٹی کا سورس آدمی کے خود اپنے اندر ہے—اپنے اندر جھانکواور اسپرچیوٹی کو پا جاؤ۔ مگر سی۔ پی۔ ایس کا ماننا ہے کہ انسان صرف recipient ہے، دینے والا صرف خدا ہے۔ سی۔ پی۔ ایس۔ کے مطابق، اسپرچیوٹی کو حاصل کرنے کا ذریعہ اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page