زمانی بصیرت رکھنے والے علماء کی ضرورت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۴
زمانی بصیرت رکھنے والے علماء کی ضرورت
سو سال سے بھی زیادہ مدت سے یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ ہمیں دورِ جدید کے علماء کی ضرورت ہے، یعنی ایسے علماء جو علومِ دینیہ کی تحصیل کے علاوہ وقت کے علوم کی بھی تعلیم حاصل کریں۔ اس طرح ایسے علماء تیار ہوں جو قدیم وجدید دونوں سے واقف ہوں تاکہ وہ عصر حاضر کے مطابق، اسلام کی خدمت انجام دے سکیں۔
حال میں اس ضرورت کو مزید شدت کے ساتھ دہرایا جارہا ہے، مگر یہ درست نہیں۔ اس موضوع پر لکھنے اور بولنے والے بظاہر یہ تاثر دے رہے ہیں گویا کہ اس موضوع پر ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا، مگر یہ بات خلافِ واقعہ ہے۔ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ پچھلے سو سال کے اندر بہت سے لوگوں نے تعلیمی اعتبار سے بظاہر دونوں قسم کی لیاقت حاصل کی، مگر مطلوب نتیجہ حاصل نہ ہوسکا۔ دو طرفہ تعلیم کے باوجود وہ علماء تیار نہ ہوسکے جو عصر حاضر کی اسلامی ضرورت کو پورا کریں۔ اس معاملے میں جو چیز مفقود ہے، وہ نتیجہ ہے نہ کہ کوشش۔ فقدانِ نتیجہ کو فقدانِ کوشش سمجھا جارہا ہے۔ یہ قلتِ شعور کے سوا اور کچھ نہیں۔
ایسے لوگوں کی فہرست ہزاروں میں شمار کی جاسکتی ہے جو دونوں قسم کی تعلیم سے بہرہ ور ہوئے، مگر وہ ملت کی مطلوب ضرورت کو پورا نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر چند نام یہاں لکھے جاتے ہیں ۔ مولاناحمیدالدین فراہی،مولاناسعیداحمد اکبرآبادی، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، پروفیسر مشیر الحق، ڈاکٹر عبدالحلیم عویس، ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی، مولانا محمد تقی عثمانی، پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی، پروفیسر محمد اجتبا ندوی، پروفیسر محسن عثمانی، پروفیسر ضیاء الحسن ندوی، ڈاکٹر عبد الحلیم ندوی، ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی، ڈاکٹر سعود عالم قاسمی، وغیرہ۔
یہ تمام لوگ مدرسہ اور یونیورسٹی دونوں قسم کی تعلیم سے بہرہ ور ہوئے۔ اس قسم کے دو طرفہ سند یافتہ علماء کی فہرست بہت طویل ہے، مگر ان میں سے کوئی بھی شخص مطلوب ضرورت کو پورا نہ کر سکا، یعنی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues