Al-Risala · March 2007 · page 5

زمانی بصیرت رکھنے والے علماء کی ضرورت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۵

قدیم و جدید دونوں کے مطالعے سے فکر اسلامی کی تشکیل و تدوین کرنا، جو دورِ جدید میں دین اسلام کے فکری اظہار کے لیے مطلوب ہے۔ میں نے ذاتی طور پر اس قسم کے علما کی تحریریں پڑھی ہیں، مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان سب کی تحریریں قدیم روایتی مسائل کی جدید تکرار کے سوا اور کچھ نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، سرسید احمد خاں نے جب ایک تعلیمی ادارہ بنایا جس نے آخر کار مسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کی۔ سرسید احمد خاں نے اپنے اس تعلیمی ادارے کا مقصد یہ بتایا تھا کہ اس میں ایسے مسلمان تیار ہوں جن کے ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے ہاتھ میں سائنس ہو۔ اس طرح مسلم ممالک میں بہت سے ایسے ادارے ہیں جو اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم کی بھی تعلیم دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام آباد کی انٹرنیشنل یونیورسٹی، قاہرہ کا جامعۃ الازہر، ریاض کا جامعۃ الامام، لیبیا کی جامعہ طرابلس، وغیرہ۔

اسی طرح یورپ اور افریقہ میں ایسے مدرسے قائم کیے گیے ہیں جہاں اسلامی علوم کی تعلیم انگریزی زبان میں دی جاتی ہے اور قرآن اور حدیث کے ساتھ جدید علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں، نیز ایسے بہت سے مسلمان ہیں جنھوں نے ندوہ اور دیو بند جیسے اسلامی اداروں سے فراغت حاصل کی اور اس کے بعد انھوں نے کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر باقاعدہ جدید علوم میں بھی ڈگری حاصل کی۔ لیکن اس کے باوجود ایسے علما تیار نہ ہو سکے جو مطلوب قسم کے علما کی ضرورت کو پورا کر سکیں۔ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ مدرسے کے فارغین اگر مدرسے کے استاد بن کر رہ جاتے تھے تو ان لوگوں کو یونیورسٹی میں معاشی اعتبار سے زیادہ بہتر ملازمتیں حاصل ہوگئیں اور ایک عالم کے الفاظ میں وہ زیادہ بہتر قسم کے "حیوانِ کاسب" بن کر رہ گیے۔

سند یافتہ علما کے سوا بہت سے دوسرے مسلم رہنما ہیں جو عربی اور فارسی اور اردو کے سوا مغربی زبان (انگریزی یا فرنچ) بھی جانتے تھے۔ انھیں دونوں طرف کے لٹریچر کا مطالعے کرنے کا موقع ملا، مگر ان کی تحریروں کا ذخیرہ بتاتا ہے کہ وہ بھی دورِ جدید میں اسلام کی اس فکری ضرورت کو پورا نہ کر سکے۔ ان میں سے چند نام یہ ہیں— سید جمال الدین افغانی، ڈاکٹر محمد اقبال، ڈاکٹر محمد رفیع الدین، مولانا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page