Al-Risala · March 2007 · page 6

زمانی بصیرت رکھنے والے علماء کی ضرورت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۶

ابوالکلام آزاد، شیخ محمد عبدہ، سید رشید رضا، امیر شکیب ارسلان، سید قطب، ڈاکٹر عبد القادر عودہ، ڈاکٹر عبدالرحمن الکواکبی، مولا نا عبد الماجد دریا بادی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، مولا نا سید ابوالحسن علی ندوی، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، وغیرہ۔

دوسری قسم کے ان علماء کی تحریریں بھی میں نے پڑھی ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ان کا معاملہ بھی دیگر علماء سے مختلف نہیں۔ ان لوگوں کی تحریریں بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ قدیم مسائل و افکار کی جدید تکرار ہیں۔ یہ کتابیں روایتی ذہن کو اپیل کرسکتی ہیں، لیکن وہ جدید ذہن کو ایڈریس نہیں کرتےیں۔ جہاں تک دورِ جدید میں اسلام کے فکری اظہار کا معاملہ ہے، وہ ان لوگوں کی تحریروں کے اعتبار سے بدستور نامکمل پڑا ہوا ہے۔ چند مثالوں کے ذریعے اس معاملے کی وضاحت ہوتی ہے۔ 1۔ ڈاکٹر محمد اقبال، اُردو، فارسی اور عربی کے علاوہ انگریزی زبان بھی بخوبی جانتے تھے۔ انھوں نے مذکورہ موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام ہے— الہیاتِ اسلامیہ کی تشکیلِ جدید: Reconstruction of religious thought in Islam. مگر یہ کتاب کسی بھی درجے میں اسلام کی جدید ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ اس کتاب میں یا تو بعض روایتی مسائل، مثلاً وحدتِ وجود کو دوبارہ دہرایا گیا ہے۔ اس کے سوا اگر کچھ باتیں ہیں، تو وہ فلسفیانہ کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہیں۔

زیر بحث موضوع کی نسبت سے اقبال کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کو صرف منفی نقطہ نظر کے تحت دیکھ سکے، اور جو آدمی اپنے زمانے کے افکار واحوال کو صرف منفی ذہنیت کے ساتھ دیکھے، وہ کبھی اسلام کی عصری ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔

قرآن کی شہادت کے مطابق، فطرت کا قانون یہ ہے کہ ہر بظاہر منفی چیز میں ایک مثبت پہلو موجود ہو۔ اس بات کو قرآن میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ خدا کی سنت کے مطابق، ہر عصر کے اندر ہمیشہ یُسر کا پہلو موجود رہتا ہے، مگر اقبال (اور اسی طرح دوسرے تمام جدید مسلم علماء) اس نکتے کو سمجھ نہ سکے۔ ایسی حالت میں وہ سرے سے اس کے اہل ہی نہ تھے کہ وہ عصری تقاضوں کے مطابق،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page