زمانی بصیرت رکھنے والے علماء کی ضرورت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۷
اسلامی فکر کی تدوین کر سکیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اقبال کے ایک شعر کو لیجیے: میں سمجھتا تھا کہ لائے گی فراغت تعلیم کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ اقبال کا یہ شعر جدید تعلیم کے بارے میں ہے، مگر یہ شعر صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ اقبال جدید علوم کی حقیقت سے بالکل بے خبر تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید علوم، بالفاظ دیگر سائنسی علوم، آفاق و انفس (حم السجدہ 53) میں آیات الہی کے اظہار کی حیثیت رکھتے تھے۔ میں نے اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں جن کو مزید وضاحت کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مذہب اور جدید چیلنج (God Arises)۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ الاسلام یتحدّی کے نام سے چھپا ہے۔ ایک عرب شیخ نے اس کو پڑھ کر کہا تھا کہ اس کا ثانوی ٹائٹل یہ ہونا چاہیے: مدخل علمی إلى الإيمان (ایمان میں داخلے کا سائنسی دروازہ) حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی جدید علوم کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرے گا اور فراست ایمانی کے تحت اس کا تجزیہ کرے گا وہ بالکل برعکس نتیجے تک پہنچے گا۔ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ اقبال کا مذکورہ شعر (اور اسی طرح موجودہ زمانے کے تمام علماء کے منفی بیانات) صرف جدید علوم سے ان کی بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ علوم برعکس طور پر معرفت کا نیا دروازہ کھولنے والے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو اقبال کا مذکورہ شعر ایک لفظی تغیر کے ساتھ اس طرح کہنا زیادہ صحیح ہے: میں سمجھتا تھا کہ لائے گی فراغت تعلیم کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا ایمان بھی ساتھ 2۔ اسی سے متعلق دوسرا حوالہ مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ہے۔ ان کی ایک عربی کتاب چھپی ہے جس کا ٹائٹل یہ ہے: ردّة ولا أبا بكر لها (ایک ارتداد ہے، مگر اس کے لیے کوئی ابوبکر نہیں) اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ جو مسلم نوجوان جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ فکری اعتبار سے اسلام کے بارے میں منفی ذہن کے حامل بن جاتے ہیں۔ بظاہر ان کے نام مسلمان جیسے ہوتے ہیں، لیکن اعتقادی اعتبار سے وہ اسلام سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک ذہنی ارتداد کا معاملہ ہے جس سے آج مسلم ملت کی نئی نسل دوچار ہے۔
یہ کتاب پہلی بار 1959 میں المجمع الاسلامی العلمی (لکھنؤ) کی طرف سے شائع
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues