Muslims have rediscovered their pride in Islam.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳
کے نظریے کو بطور نصاب پڑھایا جاتا ہے ، جس کو عام طور پر ڈاراون ازم (darwinism) کہا جاتا ہے ۔ وہ تمام لوگ جو یونیورسٹیوں سے پڑھ کر نکلتے ہیں ، وہ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کو اس طرح مانتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت ہو۔ ان کا یہ عقیدہ اس لیے بنتا ہے کہ یونیورسٹی نصاب کے تحت ، وہ جن کتابوں کو پڑھتے ہیں ان میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے اور اس کی تقلید میں ان کا پروفیسر اس موضوع کو اسی طرح پڑھاتا ہے۔ حالاں کہ یونیورسٹی نصاب کے باہر ایسی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں اور چھپ کر شائع ہوچکی ہیں ، جن میں اس نظریے کو سرتاسر بے بنیاد ثابت کیا گیا ہے، مثلاً لُن (Lunn) کی کتاب روولٹ اگینسٹ ریزن (Revolt Against Reason)، وغیرہ۔
نظریۂ ارتقاء کو میں نے تفصیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انواع حیات کے جسمانی ڈھانچے میں مشابہت (similarity) پائی جاتی ہے۔ مثلاً بلی اور شیر کا ڈھانچہ ایک دوسرے کے مشابہ ہے ۔ بکری اور زرافہ کا ڈھانچہ ایک دوسرے سے مشابہ ہے ۔ بندر اور انسان کا ڈھانچہ ایک دوسرے سے مشابہ ہے۔ اس ظاہری مشابہت کی بنا پر یہ سمجھ لیا گیا کہ مختلف انواع کے درمیان ایک ارتقائی رشتہ ہے ، یعنی بلی میں عضو یاتی ارتقا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شیر بن گئی۔ بکری میں عضویاتی ارتقا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ وہ زرافہ بن گئی ۔ بندر میں عضویاتی ارتقا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ وہ انسان بن گیا ۔
یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے ۔ مشاہدے کے ذریعہ جو چیز دریافت ہوئی تھی ، وہ صرف مشابہتِ انواع ہے ، لیکن بے بنیاد قیاس کے تحت یہ فرض کر لیا گیا کہ مشابہتِ انواع دراصل ارتقاء انواع کو بتا رہا ہے۔ حالاں کہ اس قسم کا قیاس سرتا سر بے اصل ہے۔
اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ آپ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے استنباط (inference) کو منطقی طور پر درست سمجھتے ہیں۔ اصحاب ارتقاء بھی اسی استنباط کے ذریعے اپنے نظریے کو ثابت کرتے ہیں ، پھر کیوں آپ اس کو نہیں مانتے ۔ میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطے کی بات ہے۔ اس لیے کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں ایک ثابت شدہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues