Muslims have rediscovered their pride in Islam.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴
واقعے کی توجیہ کے لیے استنباط کو استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ: Where there is a design there is a designer. اس کے برعکس، نظریۂ ارتقاء کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں ایک غیر ثابت شدہ واقعے کی توجیہ کے لیے استنباط کے طریقے کو استعمال کیا گیا ہے، یعنی مختلف انواع کے درمیان ارتقائی عمل خود غیر ثابت شدہ ہے، مگر اس غیر ثابت شدہ عمل کو لے کر وہ حیاتیاتی فلسفہ بنا لیا گیا جس کو ڈارون ازم کہا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں ہمیں صرف عالم کی ضرورت نہیں، بلکہ عالمِ مفکر کی ضرورت ہے۔ صرف عالمِ دورِ جدید میں اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔
مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے جو سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہوا، وہ یہ تھا کہ مغربی قوموں نے مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی دبدبے کو ختم کر دیا۔ یہ مسلمانوں کے لیے ایک نیا مسئلہ تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے نہ مدرسی تعلیم کافی تھی اور نہ یونیورسٹی کی تعلیم۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے تخلیقی فکر درکار تھی۔ چوں کہ دونوں طرف کے اصحابِ علم میں تخلیقی فکر مفقود تھی، اس لیے اس معاملے میں کوئی بھی شخص مسلمانوں کو صحیح رہنمائی نہ دے سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ دورِ جدید میں مسلمانوں کے سیاسی غلبے کا ختم ہونا، ایک اضافی چیز تھی۔ اس سے زیادہ بڑی بات یہ تھی کہ جدید انقلاب نے ساری دنیا میں سائنسی دور پیدا کر دیا۔ تاریخ میں یہ جو تبدیلی پیش آئی، وہ عین اسلام کے حق میں تھی۔ جدید سائنسی دور اسلام کا معاون دور تھا نہ کہ رقیبانہ دور۔
اس معاملے کو میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ خلاصہ یہ کہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے دنیا میں جو انقلاب آیا، اُس انقلاب نے تاریخ میں ایک نیا پر اس جاری کیا۔ اسی پر اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ دنیا میں سائنسی دور پیدا ہوا، یعنی فطرت کا مطالعہ کر کے فطرت کے اُن قوانین کو دریافت کرنا جن کو قرآن میں آیات آفاق اور آیات انفس (حم السجدہ: 53) کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues