Al-Risala · March 2007 · page 15

Muslims have rediscovered their pride in Islam.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵

اس انقلاب کا ایک بے حد اہم پہلو یہ تھا کہ اس نے تاریخ میں پہلی بار دلیل کو تلوار کا قائم مقام بنا دیا۔ پہلے زمانے میں اسلامی دعوت کا کام تلوار کا مقابلہ کر کے کرنا پڑتا تھا، اب یہ ممکن ہو گیا کہ کسی بھی قسم کے تشدد کے بغیر صرف دلیل کی طاقت سے اسلامی دعوت کا فریضہ ادا کیا جائے۔

یہ ایک عالمی اصول ہے کہ ہر تہذیب کے دو حصے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مغربی تہذیب کے بھی دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک حصے کو سائنس اور دوسرے حصے کو کلچر کہا جا سکتا ہے۔ سائنس، انسانی فلسفوں میں سے ایک فلسفہ نہیں ہے۔ سائنس تمام تر قوانینِ فطرت کی دریافت کا نام ہے۔ یہ فطرت کے قوانین براہ راست خدا کے قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ قوانین نہ مغربی ہیں اور نہ مشرقی۔ وہ نہ مغربی ہیں اور نہ سیکولر۔ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، براہ راست خدا کے حکم سے ہماری دنیا میں قائم ہیں۔ ان قوانین کو سائنس نے لمبی کوشش کے بعد دریافت کیا اور اس کو ایک علم کی صورت میں مدوّن کیا۔

یہ سائنسی علم اہل اسلام کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ غیر اہل اسلام کے لیے۔ یہ علم یکساں طور پر ہر ایک کے لیے مفید اور قابلِ قبول ہے۔ اس سائنسی علم کا ایک پہلو وہ ہے جس کو ٹکنالوجی کہا جاتا ہے۔ ٹکنالوجی کے ذریعے مشین اور دوسری مادی چیزیں بنتی ہیں۔ یہ چیزیں انسانی تمدّن کے لیے کار آمد ہیں، جیسے کار، ہوائی جہاز اور ٹیلی فون، وغیرہ۔

سائنسی علم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو نظریاتی سائنس کہا جاتا ہے۔ مثلاً شمسی نظام کا علم، زمین کی گردش کا علم، بارش اور نباتات کا علم، وغیرہ۔ یہ دوسرا علم عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں آیاتِ آفاق وانفس کہا گیا ہے۔ اس علم کو قرآن میں آیاتِ الہیہ کا نام دیا گیا ہے۔ کیوں کہ وہ ہمارے اعتقادات کو علمی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سائنسی علم دورِ جدید کا علمِ کلام ہے۔ اس سائنسی علم نے تاریخ میں پہلی بار ایسا کیا ہے کہ عقلی دلیل واحد فیصلہ گن چیز بن گئی ہے۔ اس کی وجہ سے اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دین توحید کی صداقت کو کسی بھی تشدد کے بغیر صرف نظریاتی دلائل کے ذریعے ایک ایسی ثابت شدہ چیز بنا دیا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page