Muslims have rediscovered their pride in Islam.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۱۶
جاۓ جس کو ماننے کے لیے انسان کی عقل مجبور ہو۔
مغربی تہذیب کا دوسرا حصہ اس کا کلچر ہے۔ یہ کلچر اہل مغرب کی قومی چیز ہے۔ سائنسی علم سے اس کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً مغربی قوموں میں موجودہ زمانے میں اباحیت پسندی اور عریانیت پیدا ہوئی ہے، مگر اس اباحیت اور عریانیت کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مغربی قوموں کی اپنی پیدا وار ہے۔ تاریخ کے قدیم زمانے میں بھی اس قسم کی اباحیت کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً قومِ لوط میں اباحیت ایسے انتہائی درجے تک پہنچ گئی تھی کہ خدا نے ان کو آسمانی عذاب کے ذریعے ہلاک کر دیا۔ مغربی قوموں میں جو بے قید آزادی پیدا ہوئی اس کی ذمے داری بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر خود مسلم رہنمائوں پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی سائنس فطرت پر عقلی غور و فکر کے ذریعے پیدا ہوئی۔ اس بنا پر جب سائنس کا عروج ہوا تو اسی کے ساتھ عقلی غور و فکر کا بھی عروج ہو گیا۔ اب فطری طور پر ایسا ہوا کہ موجودہ زمانے کے اہل علم مذہب کو بھی عقلی معیاروں پر جانچنے لگے۔
اب ضرورت تھی کہ مسلم رہنما اسلام کی تعلیمات کو ایسے عقلی اور سائنسی دلائل کے ذریعے پیش کریں جو آج کے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، مگر مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہوا کہ وہ مغربی سائنس اور مغربی کلچر کے درمیان فرق کو سمجھنے سے عاجز رہے اور انھوں نے مغربی تہذیب کو اسلام دشمن سمجھ کر اس کی مخالفت شروع کر دی۔ وہ اسلام کو عقلی دلائل پر پیش کرنے کے بجاۓ جدید نسل کے لوگوں کو ملحد اور مرتد قرار دے کر ان کے خلاف فتوے کی زبان بولنے لگے۔ حالاں کہ یہاں فتویٰ ایکٹوزم نہیں بلکہ سائنسی ایکٹوزم کی ضرورت تھی۔
مسلم رہنمائوں کی یہی وہ بھیانک غلطی ہے جس نے سارے مسائل پیدا کیے۔ اسی غلطی کا یہ نتیجہ تھا کہ سائنسی انقلاب جو دینِ حق کی تائید کے طور پر آیا تھا۔ وہ دینِ حق کا رقیب اور حریف بن کر رہ گیا۔ اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوا کہ موجودہ زمانے میں سند یافتہ علماء اور ڈگری یافتہ رہنما تو بہت پیدا ہوئے، لیکن ہمارے ادارے کوئی تخلیقی مفکر پیدا نہ کر سکے۔
راقم الحروف نے خدا کے فضل سے اس میدان میں ذاتی محنت کے ذریعے اتنا زیادہ کام کیا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues