تفریق کیا ہے
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۱۸
تفریق کیا ہے
قرآن کی سورہ نمبر 3 میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ایک اہم اجتماعی تعلیم دی گئی ہے، اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :
"اور تم لوگ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو، اور متفرق نہ ہو جاؤ،" (آل عمران: 103) مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کے تحت اُس حدیث کو نقل کیا ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچھلی امتیں بہتر فرقوں میں بٹ گئیں اور تم لوگ تہتر فرقوں میں ہوگے۔ ان میں ہر جماعت گمراہ ہوگی، سوا اُس جماعت کے جو رسول اور اصحابِ رسول کے طریقے پر ہو (ما أنا عليه وأصحابى، الترمذى)
صحیح مسلم میں یہ روایت آئی ہے کہ خدا قیل وقال اور کثرتِ سوال کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ (القرطبی، جلد 4، صفحہ 164) اس حدیث میں کثرتِ سوال سے مراد یہ ہے کہ آدمی نصوص میں خوض کرکے نئے نئے نکتے نکالے اور ان نکتوں کی بنیاد پر نصوص کی خود ساختہ تعبیر کرنے لگے۔ ان خود ساختہ تعبیرات پر اصرار کرنے ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت متفرق گروہوں میں بٹ جاتی ہے، اور ہر گروہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہی حق پر ہے۔
اصل یہ ہے کہ ایک چیز ہے دین کی معلومات، اور دوسری چیز ہے حکمت اور بصیرت (wisdom)۔ معلومات نصوص کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہیں، لیکن وہ چیز جس کو حکمت اور بصیرت کہا جاتا ہے اس کا ذریعہ صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے خدا کا خوف۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: واتقوا الله ويعلمكم الله (البقرة: (282) اسی بات کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: رأس الحكمة مخافة الله (البيهقی) حکمت کا سر اللہ کا خوف ہے۔ دین سے سادہ فہم کے لیے معلوماتی علم کافی ہے، لیکن دین کی تشریح و تعبیر گہری بصیرت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس معاملے پر زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ تفرق فی الدین عوام کا فتنہ نہیں،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues