Al-Risala · March 2007 · page 19

تفریق کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۱۹

اصلاَ یہ خواص کا فتنہ ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جوذ ہن تو ہو لیکن خوفِ خدا والی بصیرت اس کے اندر موجود نہ ہو، وہ قرآن اور حدیث کو پڑھ کر ایک غیر ضروری نکتہ نکالتا ہے۔ اس نکتے کی کاٹ کے لیے اس کے اندر گہری بصیرت موجود نہیں ہوتی، اس لیے وہ نکتے کو درست سمجھ کر اس کا پرچار شروع کر دیتا ہے۔ دھیرے دھیرے کچھ اور سادہ لوح افراد اس کے گرد اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک فرقہ وجود میں آ جاتا ہے۔ چند نسلوں کے بعد فطری اسباب کے تحت، اس میں تعصب کا عنصر شامل ہو جاتا ہے، یہاں پہنچ لوگ اُس فرقے سے اِس طرح جڑ جاتے ہیں کہ اُن کے لیے اُس سے جدائی ممکن نہیں ہوتی، کیوں کہ دلیل کا جواب تو دلیل کے ذریعے دیا جا سکتا ہے، لیکن دلیل کے ذریعے تعصب کی دیوار کو توڑا نہیں جا سکتا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک فرقے بنتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی تعداد ستر سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

تفرق فی الدین کیا ہے۔ تفرق فی الدین در اصل تعبیرِ دین میں اختلاف کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ دین کی تعبیر، دین کی ایک فطری ضرورت ہے، لیکن تعبیر اور نکتہ آفرینی میں فرق ہے۔ حقیقی یا صحیح تعبیر وہ ہے جو علمی تجزیے میں پوری اترے۔ جو نصوصِ دین کے مجموعی مطالعے سے درست ثابت ہو ۔ جو ”ما أنا عليه وأصحابي‘‘ کا بدلے ہوئے حالات میں انطباق (application) کے ہم معنیٰ ہو ۔ جس سے مقتضیاتِ دین میں کوئی تضاد واقع نہ ہوتا ہو۔

اس کے برعکس، نکتہ آفرینی وہ ہے جو کچھ افراد کے ذاتی ذوق کو تسکین دیتی ہو، لیکن وسیع تر علمی تجزیے میں وہ اپنی صحت کو ثابت نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ اسلام کا نشانہ یہ بتاتے ہیں کہ اس کا مقصد زمین پر حکومتِ الہیہ کا قیام ہے۔ اس نظریے کے ثبوت میں قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں: إن الحكم إلا الله (یوسف: 40) مگر یہ حوالہ بداہتاً درست نہیں۔ آیت کے سیاق و سباق کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت فوق الفطری حکم کے معنی میں ہے نہ کہ سیاسی حکم کے معنی میں، جیسا کہ اس کے دعوے دار بتاتے ہیں۔ اس مثال سے نکتہ آفرینی اور حقیقی تشریح و تعبیر کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page