Al-Risala · March 2007 · page 20

تفریق کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰

اس معاملے کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں تشریحِ دین کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، اجتہادِ صحیح اور دوسرے، تفسیر بالرائے۔ اجتہادِ صحیح وہ ہے جو تمام متعلق نصوص کے مطابق ہو۔ اُس سے شرعی احکام میں کوئی تضاد نہ پیدا ہوتا ہو۔ اس کے مقابلے میں تفسیر بالرائے وہ ہے جو ایک شخص کی ذاتی رائے ہو، لیکن جب اس کو متعلق نصوص پر رکھ کر جانچا جائے تو درست ثابت نہ ہوسکے۔ اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے چند مثالوں کو لیجیے۔

1- حدیث میں آیا ہے کہ: مَن قال لا الہ الا الله دخل الجنة (صحیح البخاری) اس حدیث کو اور اس قسم کے دوسرے نصوص کو لے کر کچھ لوگوں کے دماغ میں آیا کہ جنت میں داخلے کے لیے صرف ایمان کافی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس معلومات تو تھیں، لیکن اُن کے اندر گہری بصیرت موجود نہ تھی۔ چنانچہ انھوں نے اس حدیث کو لفظی معنوں میں لے کر یہ رائے بنائی کہ جنت کے حصول کے لیے صرف ایمان کافی ہے۔ اگر ان کے اندر گہری بصیرت ہوتی تو ان کی بصیرت ان کے لیے مہیمن بن جاتی اور وہ سمجھ لیتے کہ اس قسم کی رائے محض ایک بے بنیاد نکتہ ہے وہ کوئی حقیقی نظر یہ نہیں، لیکن گہری بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے اس نکتے کا بے اصل ہونا اُن کی سمجھ میں نہ آیا، وہ اپنے اس نکتے پر اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کی بنیاد پر ایک نیا فرقہ وجود میں آ گیا۔ اس فرقے کے لوگوں کی طرف اس قسم کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں:

ليس لله عزّ وجلّ علیٰ خلقه فريضة سوی الإيمان به، فمن امن به فليفعل ماشاء. الطاعة ليست من الإيمان (القرطبی، جلد 4، صفحہ 162)

اس قسم کی بات کرنے والوں کے پاس اگر تقویٰ اور بصیرت کا سرمایہ ہوتا تو وہ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے دوسرے نصوص کو بھی ضرور سامنے رکھتے اور پھر وہ پا لیتے کہ جنت محض کسی قسم کے تلفظ لسانی کی بنا پر کسی کو نہیں ملے گی، بلکہ یہ سارا معاملہ تعمیر شخصیت کا معاملہ ہے۔ جنت دراصل اُس سعادت مندر وح کے لیے ہے جو تزکیہ یافتہ شخصیت لے کر آخرت میں حاضر ہو (ذلک جزاء من تزکی، ط : 76) اور جو شخص تزکیہ کے درجے میں اسلام کا حامل بن جائے اس کے لیے قول اور عمل میں کوئی فرق باقی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page