Al-Risala · March 2007 · page 21

تفریق کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱

نہیں رہتا۔ اس کا ایمان ایک ایسی معرفت پر کھڑا ہوتا ہے جو پوری انسانی شخصیت کے اندر انقلاب کے ہم معنی بن جائے۔

2- قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے: وَمَن لم يحكم بما أنزل الله فاولئك هم الكافرن (المائدہ: 44) یعنی جو شخص اُس (قانون) کے مطابق ، فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ منکر ہیں۔ اس آیت کو لے کر کچھ لوگوں نے یہ نظریہ بنایا کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ ایسا کر کے کافر ہو جاتا ہے۔ اس جماعت کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: مَن حاکم إلى مخلوق فهو كافر (القرطبی، جلد 4، صفحہ 161)

اس گروہ کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کی ایک آیت کو لیا اور دوسری متعلق آیتوں کو سامنے رکھے بغیر اس کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی۔ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی فعل کا غلط ہونا تعمد قلب پر موقوف ہے (البقرہ: 225)۔ جس فعل میں آدمی کا قلبی ارادہ شامل نہ ہو وہ اس کے لیے ذمے دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔

شرعی حکم کی کچھ شرطیں ہوتی ہیں، ان شرطوں کی موجودگی کے بغیر وہ حکم متحقق نہیں ہوتا۔ مثلاً ہر حکم کے ساتھ یہ لازمی شرط جڑی ہوتی ہے کہ آدمی اس کی استطاعت رکھتا ہو (اتقوا الله ما استطعتم، التغابن: 16) اس اصول کو شریعت میں تکلیف بقدر وسع (البقرہ: 286) کہا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے مسلمان اگر حکم شریعت کے مطابق ، فیصلہ نہ کریں تو وہ مذکورہ آیت کا مصداق نہیں ٹھہریں گے۔ اس لیے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو نفاذ شریعت کا اختیار حاصل نہیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی ذمے داری ان کے دائرۂ اختیار کے اعتبار سے متعین ہوگی نہ کہ فہرست احکام کے اعتبار سے۔ چناں چہ ہندوستان میں مسلمانوں کو جو کام کرنا ہے وہ دعوت الی اللہ ہے جس کا اس دورِ آزادی میں انھیں پورا اختیار حاصل ہے۔

اسی طرح پاکستان کے مسلمان بھی اگر شرعی احکام کا نفاذ نہ کریں تو اس بنا پر وہ "کافر" نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page