تفریق کیا ہے
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۲
قرار پائیں گے۔ اس لیے کہ پاکستان کا معاشرہ ایک بگڑا ہوا معاشرہ ہے اور بگڑے ہوئے معاشرے میں اسلامی عمل کا آغاز احکام کے نفاذ سے نہیں ہوتا، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ غیر سیاسی سطح پر اصلاحی کوشش کے ذریعے معاشرے کے اندر احکام کی قبولیت کی استعداد پیدا کی جائے۔
3- اس طرح کچھ لوگوں نے قرآن اور حدیث میں جہاد کے احکام پڑھے۔ ان احکام کو پڑھ کر اُن کے ذہن میں جہاد کی اہمیت کا ایک غُلُو آمیز تصور قائم ہوا۔ اس غلو آمیز تصور کی بنا پر انھوں نے جہاد کو فرض عین کا درجہ دے دیا۔ انھوں نے یہ نظریہ بنایا کہ جو شخص جہاد کو چھوڑ دے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تو وہ کافر ہو گیا:
أن من ترك الجهاد من ذكر أو أنثى كفر (القرطبی، جلد4، صفحہ 161)
جہاد کے بارے میں یہ نظریہ یقینی طور پر بے بنیاد ہے۔ یہ لوگ جہاد کو اُسی طرح ابدی سمجھتے ہیں جس طرح نماز ایک ابدی حکم ہے، مگر جہاد کا معاملہ ایسا نہیں ۔ دیگر نصوص کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد (بە معنی قتال) ایک مشروط حکم ہے، وہ کوئی مطلق حکم نہیں۔ یعنی جہاد (بە معنی قتال) دفاعی طور پر صرف اُس وقت کیا جائے گا جب کہ خارج سے باقاعدہ مسلح جارحیت کی گئی ہو۔ یہ دفاعی جہاد بھی منّظم ریاست کا فریضہ ہے نہ کہ افراد یا غیر حکومتی ادارے کا۔
مزید یہ کہ جہاد (بە معنی قتال) کا تعلق حالات سے ہے۔ یعنی جس وقت جہاد کا فعل کرنا ہو، اُس وقت کے حقیقی حالات کی نسبت سے دیکھا جائے گا کہ فریق ثانی کے مقابلے میں نتیجہ خیز جدوجہد کا طریقہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں قتال عملاً ایک ناممکن چیز بن چکی ہے۔ قتال اب کسی کے لیے بھی کوئی درست انتخاب نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانہ ایٹم بم کا زمانہ ہے۔ پہلے زمانے میں تلوار سے جنگ ہوتی تھی۔ تلوار کے ذریعے جنگ کا دائرہ بہت محدود ہوتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں جدید ہتھیاروں کی تیاری نے جنگ کو عمومی تباہی (mass destruction) کا زمانہ بنا دیا ہے۔ ان ہتھیاروں کی فہرست میں ایٹم بم نمبر ایک کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام بڑے ملک یا تو ایٹم بم بنا چکے ہیں، یا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues