Al-Risala · March 2007 · page 23

40 more countries have skill to build the bomb.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۳

انھوں نے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرلی ہے۔ اس سلسلے میں ایک تازہ سروے کی رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا (17 اکتوبر 2006) میں چھپی ہے۔ اس کی سرخی کے الفاظ یہ ہیں:

40 more countries have skill to build the bomb.

اکتوبر 2006 میں نارتھ کوریا نے ایٹم بم کا تجربہ کیا۔ اس کے بعد تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ امریکا کی، نیوکلیئر پرولیفریشن (nuclear proliferation) کورو کرنے کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ چنانچہ معلوم طور پر کم از کم چالیس ملکوں تک نیوکلیئر ہتھیاروں کا پھیلاؤ پہنچ چکا ہے۔ ایسی حالت میں جہاد کے نام پر جنگ کی بات کرنا، صرف تباہی کی بات کرنا ہے۔ اسلامی جہاد ایک مثبت فائدے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن جب جنگ عملاً صرف دو طرفہ تباہی کے ہم معنی بن چکی ہو تو جہاد (بہ معنی قتال) کا حکم بلاشبہ بدل جائے گا، جیسا کہ اسلامی شریعت کا مسلمہ ہے: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں جنگ ایک غیر عملی چیز بن چکی ہے۔ اب جنگ کسی کے لیے بھی کوئی قابلِ انتخاب چیز نہیں۔ اسلام کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ابدی مذہب ہے۔ اگر جہاد (بہ معنی جنگ) کو اسلام کا ابدی حصہ مانا جائے تو ایسا ماننا، خود اسلام کی ابدیت کو مشتبہ کر دے گا۔ میں نے واشنگٹن (امریکا) کے ایک سیمنار (فروری 1998) میں اس موضوع پر بولتے ہوئے کہا تھا: Islam claims to be an eternal religion, and an eternal religion cannot afford, in its scheme, a principle which was not sustainable in the later periods of human history. حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں کہ جہاد (بہ معنی قتال) شریعت کا ایک ابدی حکم ہے، جو مسلمان قتال نہ کرے وہ کافر ہو جائے گا۔ ایسا کہنے والے لوگ، دوسرے الفاظ میں، یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ زمانے میں کسی مسلمان کے لیے اب صرف دو میں سے ایک کا انتخاب رہ گیا ہے— یا تو وہ جہاد (بہ معنی قتال) کر کے اپنے آپ کو ہلاک کرلے، یا وہ جہاد کو چھوڑ کر کافر بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page