Al-Risala · January 2007 · page 12

نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۲

ہیں۔ یہ جملہ صرف مصنف کے کنفیوژن کو بتاتا ہے۔ دار دعوت اور دار اسلام کی اصطلاحیں دو مختلف منطقوں کے درمیان فرق کو بتانے کے لیے ہیں، لیکن جب دونوں اصطلاحوں کو ایک کہہ دیا جائے تو دونوں کے درمیان فرق سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام کنفیوژن ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے کسی مفروضہ مفہوم کے تحت، دار دعوت کا لفظ تو استعمال کیا، مگر اُن پر یہ واضح نہیں تھا کہ دار دعوت حقیقتاً کیا ہے۔ دار دعوت یا دار الدعوہ دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ غیر مسلموں کی نسبت سے مسلمانوں کی جو ذمے داری ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان ان کے اوپر دعوت الی اللہ کے عمل کو انجام دیں۔ لیکن جب دار دعوت اور دار اسلام دونوں کو ایک کہہ دیا جائے تو دار الدعوہ کی وہ نوعیت ہی گم ہو جاتی ہے جس کی وضاحت کے لیے یہ اصطلاح وضع کی گئی ہے۔

اصل یہ ہے کہ دماغ میں جب وضوح (clarity) ہو تو آدمی ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کر کے دیکھنے کے قابل ہوتا ہے، لیکن جب دماغ میں کنفیوژن ہو تو آدمی فرق کو نہیں سمجھ پاتا اور وہ ایک قسم کے فکری تضاد میں مبتلا رہتا ہے۔ مثلاً ایسا آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ برصغیر ہند، دو منطقوں میں تقسیم ہے۔ انڈیا دار دعوت ہے اور پاکستان دار اسلام، اور پھر دونوں بیک وقت دار الاسلام ہیں۔ اس قسم کی بات کہنے والے کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ امتحان کی اصطلاح میں مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق ہے۔ یعنی وہ انڈیا کی شرعی نوعیت سے بھی بے خبر ہے اور پاکستان کی شرعی نوعیت سے بھی بے خبر۔

میں عرض کروں گا کہ یہ کوئی صحیح علمی طریقہ نہیں کہ آدمی ایک بیان دے اور پھر جب وہ بیان غلط ثابت ہو جائے تو وہ اپنی غلطی کا کھُلا اعتراف نہ کرے بلکہ غیر متعلق باتیں بول کر یہ ظاہر کرے کہ اس کا بیان درست تھا۔ اس قسم کی روش نفسیات کی اصطلاح میں، کمزور شخصیت (weak personality) کا ثبوت ہے۔ جو آدمی کمزور شخصیت کا حامل ہو اس کو اپنی اس روش کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ اس کا علمی ارتقا مستقل طور پر رک جائے اور وہ اعلیٰ فکری ترقی کا تجربہ نہ کر سکے۔

نئی دہلی، ۹ مارچ ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین اس خط کے بعد مولانا غطریف شہباز ندوی کی طرف سے ان کا ایک خط ملا۔ اپنے اس خط میں انھوں نے اعتراف کر کے اس بحث کو ختم کر دیا تھا۔ ان کا یہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page