Al-Risala · March 2007 · page 24

40 more countries have skill to build the bomb.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴

وہ گمراہی جس کو قرآن میں تفرق کہا گیا ہے، وہ ہمیشہ اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ ایک ذہین انسان ایک نص کو پڑھتا ہے، اس کو پڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک نکتہ یا شوشہ آ جاتا ہے، وہ اس نکتے کو ایک بڑی چیز سمجھ کر اسی میں جینے لگتا ہے، وہ اس کے حق میں دلیلیں جمع کرتا ہے، اس کو لوگوں سے بیان کرتا ہے، اس طرح کچھ لوگ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے اس کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ پھر کچھ لوگ اُس سے متاثر ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے اس کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے بعد اس حلقے میں تعصّب کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو یہ گروہ ایک متعصّب فرقے کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ یہاں آ کر اس کی گمراہی اپنے آخری درجے تک پہنچ جاتی ہے۔

اس فتنے سے بچنے کی تدبیر کیا ہے۔ اس کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی ذہن میں جب اس قسم کا کوئی نکتہ آئے تو وہ ہمیشہ ایسا کرے کہ اس کو اپنی ذاتی پسندی کی بنا پر اختیار نہ کرلے، بلکہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے خیال کو شرعی معیار پر جانچے۔ اس شرعی معیار کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ما أنا عليه وأصحابى (الترمذی) اس شرعی معیار کو دوسرے لفظوں میں قرآن اور سنت بھی کہا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ اپنے ذاتی نکتے کو انتہائی بے آمیز انداز میں قرآن اور سنت کے نصوں پر پرکھے، وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس پر ڈسکشن کرے، وہ اس کے لیے دعائیں کرے، وہ اس کے لیے استخارہ کرے۔ اس طرح کے لمبے تحقیقی مرحلے کے بعد جب اس کا ذہن مطمئن ہو جائے تو اُس وقت وہ اس کو لوگوں کے سامنے ایک نقطۂ نظر کے طور پر بیان کرے۔ اس کے باوجود وہ ہمیشہ رجوع کے لیے تیار رہے، یعنی جب اس کے نقطۂ نظر کے خلاف کوئی شرعی دلیل پیش کی جائے تو وہ تو بہ کرے، یعنی اپنے نقطۂ نظر کو چھوڑ دے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ غیر متعلق الفاظ بول کر یہ ظاہر کرے کہ وہ حق پر ہے، اس نے حق سے انحراف نہیں کیا۔ یہاں میں اپنے ذاتی تجربے کے مطابق، اس معاملے کی چند مثالیں درج کرتا ہوں۔

1۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ تقریباً اتفاق کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page