Al-Risala · March 2007 · page 25

40 more countries have skill to build the bomb.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۵

یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جو سنگین مسائل پیش آرہے ہیں، وہ دوسروں کی عداوت کی بنا پر پیش آرہے ہیں۔ یہ لوگ متفقہ طور پر یہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کی سازش، امریکیوں کی دشمنی اور ہندوؤں کا تعصب ان مسائل کا اصل سبب ہے۔

راقم الحروف نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں مسلسل طور پر یہ بتایا کہ یہ نظریہ سرتا سر ایک غیر قرآنی نظریہ ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو مصیبت بھی پیش آتی ہے وہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے (وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم، الشوری : 30) اس موضوع پر میں نے قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے قطعی طور پر ثابت کیا کہ مسلم رہنماؤں کی سوچ غلط سوچ ہے، لیکن ان رہنماؤں نے رجوع اور اعتراف کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود میرے خلاف الزام تراشی شروع کردی۔

2- اسی طرح مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ دعویٰ کیا کہ أقيموا الدين (الشوری: 13) کی آیت مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد کرتی ہے کہ وہ مکمل اسلامی نظام کو نافذ کریں اور اس مقصد کے لیے اقتدار پر قبضہ کریں۔ میں نے قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے ثابت کیا کہ یہ نقطۂ نظر بے بنیاد ہے، اس کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ یہاں بھی ان حضرات نے رجوع اور اعتراف کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ وہ بے بنیاد طور پر میرے خلاف الزام تراشی کرنے لگے۔ 3- اسی طرح ایک گروہ ہے جو ’’مسجد والے‘‘ اعمال کو زندہ کرنے کی تحریک چلا رہا ہے، لیکن وہ اپنی اس تحریک کو دعوت کا نام دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ میں نے قرآن کے واضح نصوص کے ذریعے ثابت کیا کہ دعوت اُس عمل کا نام ہے جو غیر مسلموں کے درمیان اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے کیا جائے۔ مسجد والے اعمال کو زندہ کرنے کی تحریک ایک اصلاحی کام ہے نہ کہ دعوتی کام۔ یہاں بھی ان حضرات نے رجوع اور اعتراف کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ غیر متعلق باتیں بول کر بے بنیاد طور پر یہ ظاہر کرنے لگے کہ ان کا کام عین وہی کام ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یہی وہ مزاج ہے جس کو قرآن میں تفرق کہا گیا ہے اور جس سے فرقے وجود میں آتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page