40 more countries have skill to build the bomb.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۶
ہیں ۔ اس گمراہی سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنے آپ کو اجتہاد سے بچائے ، یا وہ اس کی قیمت اس طرح ادا کرے کہ وہ ہمیشہ رجوع اور اعتراف کے لیے تیار رہے۔
غلطی کوئی سادہ غلطی نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک سنگین غلطی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ محض ایک لفظی فرق کا معاملہ ہے ، غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ، غلطی کو جرم بنا دیتا ہے۔ غلطی قابل معافی ہے لیکن جرم قابل معافی نہیں ، الّا یہ کہ آدمی توبہ کرے اور کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کر کے حق کی طرف دوبارہ واپس چلا جائے۔
اوپر ہم نے اس قسم کی تین مثالیں دی ہیں۔ ان میں سے پہلی مثال کو لیجیے۔ اس مثال کا ایک عظیم نقصان یہ ہوا کہ مسلمان کے اندر غیر مسلم قوموں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی۔ اس نفرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے لیے یہ قومیں مدعونہ رہیں ، بلکہ عملاً وہ ان کے لیے حریف اور رقیب بن گئیں۔ اور جب ایسا ہو کہ مدعو قوم داعی کو دشمن اور حریف دکھائی دینے لگے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ داعی کے دل میں اس قوم کے لیے دعوت کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔ یہی وہ واحد سبب ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر کمیونٹی ورک تو بہت بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے، لیکن دعوت ورک کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ حالاں کہ دعوت ورک مسلمانوں کی ایک ایسی لازمی ذمے داری ہے جو کسی بھی حال میں ان سے ساقط نہیں ہوتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت ورک کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہو جاتا ہے۔
اسی طرح دوسری مثال کو لیجیے ، قرآن میں اقيموا الدين (الشوریٰ) کی آیت اس معنی میں آئی ہے کہ ذاتی اختیار کے دائرے میں جو دینی فرائض ہیں ، اُن کو ہر ہر فرد پوری طرح اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کرے ، لیکن جب اس آیت کا مطلب یہ بتایا گیا کہ اسلامی حکومت قائم کرو اور شرعی قوانین کا نفاذ کرو تو لوگوں کے ذہن میں عمل کا نشانہ بدل گیا۔ اُن کی نظر میں ذاتی طور پر مومن اور متقی بننے سے زیادہ اہم بات یہ قرار پائی کہ وہ سیاسی جھنڈا اٹھائیں اور انقلاب کا نعرہ لگائیں۔ اس طرح ”مکمل دین‘ کی اقامت کے نام پر ”جزئی دین‘‘ کی اقامت بھی حذف ہو کر رہ گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues