Al-Risala · March 2007 · page 27

40 more countries have skill to build the bomb.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷

یہی معاملہ مذکورہ تیسری مثال کا ہے۔ ان حضرات کا کام مثلاً اصلاحِ المسلمین کی نوعیت کا کام ہے، مگر وہ اس کو دعوت الی اللہ کا کام بتاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس تحریک میں نہ تو مسلمانوں کی اصلاح کے حقیقی تقاضے پورے ہوتے ہیں، اور نہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت الی اللہ کا کام انجام پاتا ہے۔

اس تحریک کے اصولوں کا مطالعہ کیجئے تو آپ پائیں گے کہ اُن کے اصولوں میں ’’اکرامِ مسلم‘‘ تو ہے، مگر اکرام انسان موجود نہیں۔ ان کے یہاں ’’امت کا درد‘‘ تو ہے، مگر انسانیت کا درد نہیں۔ اس تصور نے اس تحریک کو ایک محدود فرقہ بنا کر رکھ دیا۔

اس ذہن کا مزید نقصان یہ ہوا کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا کام کرنے کا ذہن بالکل ختم ہوگیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک ایسے کام کو دعوتی کام سمجھنے لگے جو دعوتی کام نہ تھا۔ اس مزاج نے ان کے اندر یہ فرضی یقین پیدا کر دیا کہ وہ دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں، حالاں کہ وہ سرے سے دعوت الی اللہ کا کام ہی نہ تھا۔ اس طرح دعوت کے نام پر اٹھنے والی یہ تحریک عملاً دعوت کی قاتل بن گئی۔ جب انھیں اس غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی تو انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اپنے ذہن کو درست کر لیں اور صحیح ذہن کے ساتھ اپنا کام کرنے لگیں۔

خصوصی رعایت!

طلبہ اور اساتذہ کے لیے ماہ نامہ الرسالہ کا سالانہ زرِ تعاون صرف 50 روپے کر دیا گیا ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اس خصوصی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page