Al-Risala · March 2007 · page 28

موت کا مثبت تصور

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸

موت کا مثبت تصور

وسیع خلا میں ان گنت ستارے اور سیارے مسلسل گھوم رہے ہیں ، لیکن ان کی رفتار اتنی کامل صحت کے ساتھ قائم ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود کبھی ان میں ادنیٰ فرق بھی نہیں ہوتا۔ ہر روز کے اخبار میں منٹ اور سیکنڈ کے تعین کے ساتھ یہ چھپتا ہے کہ آج کی صبح سورج کے طلوع کا وقت کیا ہے اور شام کو اس کے غروب کا ٹھیک وقت کیا۔ یہی حال تمام ستاروں اور سیاروں کا ہے۔ گویا کہ کائنات میں تنظیم اوقات (time management) معیاری صحت کی آخری حد پر ہے۔ جب کہ انسانی زندگی میں ایسا نہیں۔

اسی طرح مادی کائنات پوری کی پوری ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ کائنات کا اصل مادی سورس ایٹم ہے۔ ایٹم کو بے شمار صورتوں میں ترتیب دے کر کائنات کی تمام چیزیں بنی ہیں، اور جیسا کہ مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز آخری حد تک مکمل ہے۔ مثلاً گھاس اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ شمسی نظام اپنے فائنل ماڈل پر ہے، اسی طرح تمام چیزیں ۔ گویا کہ کائنات سورس مینجمنٹ (source management) کا آخری کامل نمونہ ہے۔ جب کہ انسان کو اپنی زندگی میں یہ چیز حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کے اندر بے شمار سرگرمیاں ہر لمحہ جاری رہتی ہیں، لیکن یہ تمام سرگرمیاں پوری طرح نتیجہ خیز (result-oriented) صورت میں ہوتی ہیں۔ وسیع دنیا میں کوئی بھی سرگرمی بے نتیجہ نہیں۔ حتیٰ کہ کیڑے مکوڑے جو رات دن سرگرم عمل رہتے ہیں، وہ بھی انتہائی مفید کام انجام دینے میں مصروف ہیں۔ جب کہ انسان کی زندگی میں اس قسم کی کامل درجے میں مفید سرگرمیاں موجود نہیں۔ اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں کی کوئی بھی چیز جمود کی حالت میں نہیں۔ ہر چیز مسلسل طور پر متحرک ہے۔ ایٹم کے اندر برقی ذرات کی غیر مرئی گردش سے لے کر وسیع خلا میں ستاروں کی مسلسل گردش تک ہر چیز حالت حرکت میں ہے۔ اس کے باوجود کائنات کے کسی بھی حصے میں ٹکراؤ کا حادثہ پیش نہیں آتا۔ گویا کہ ہماری دنیا میں عالمی سطح پر بے مسئلہ کلچر (no problem culture) قائم

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page