موت کا مثبت تصور
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲۹
ہے۔ جب کہ انسان کو اس قسم کی زندگی حاصل نہیں۔
اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں کی تمام چیزیں نفع بخشی کے اصول پر اپنا کام کرتی ہیں۔ سورج سے نکلنے والی شعاعوں سے لے کر درختوں سے نکلنے والی آکسیجن تک تمام چیزیں دوسروں کے لیے یک طرفہ طور پر نفع بخش بنی ہوئی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ گویا کہ موجودہ دنیا میں ہر طرف لینے کے بجائے دینے کا کلچر (giver culture) رائج ہے، مگر انسان کی دنیا میں اس قسم کا کلچر موجود نہیں۔
ایک فلسفی کا قول ہے کہ ـــ موجودہ دنیا میں ہر چیز حسین ہے، یہ صرف انسان ہے جو کہ حسین نہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تجربہ ہر عورت اور مرد کو ہوتا ہے۔ سورج جب صبح کو طلوع ہوتا ہے اور شام کو جب وہ غروب ہوتا ہے تو وہ کسی آنکھ والے کے لیے ایک انتہائی حسین مشاہدہ ہوتا ہے۔ سرسبز درخت کو دیکھ کر آنکھ کو بے پناہ تازگی ملتی ہے۔ بہتے ہوئے دریا کے کنارے آپ کھڑے ہوں تو وہاں آپ کو ایک اتھاہ سرور کا تجربہ ہوتا ہے۔ پھول اور پھل، دریا اور پہاڑ حتیٰ کہ گھاس تک میں بھی آدمی کے لیے حسنِ مشاہدہ کی ایک کائنات نظر آتی ہے۔ مگر انسان کو خود اپنی زندگی میں یہی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے معیار پسند (idealist) واقع ہوا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ حد تک یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی معیاری دنیا پائے اور اس کے اندر ہیشگی کی زندگی بسر کرے، مگر آدمی اپنی اس مطلوب دنیا کو نہیں پا تا اور محدود عمر گزار کر ایک ایسی دنیا میں مر جاتا ہے جہاں کی ہر چیز اُس کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ یہاں معیاری دنیا کو پا نا پوری طرح ممکن ہے۔ فلسفیوں کے نزدیک موت کے دو تصور ہیں۔ ایک ہے منفی تصورِ موت (negative concept of death) اور دوسرا ہے مثبت تصورِ موت (positive concept of death)۔ سائنس کا اصول ہے کہ جو تصور حقائق سے زیادہ مطابقت رکھتا ہو، اس کو بطور واقعہ قبول کر لیا جائے گا اور جو تصور حقائق سے مطابقت نہ رکھتا ہو، وہ تصور غیر واقعی سمجھ کر رد کر دیا جائے گا اس پہلو سے دیکھیے تو منفی تصورِ موت قابلِ ردقرار پا تا ہے اور مثبت تصورِ موت قابلِ قبول ٹھہرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues