موت کا مثبت تصور
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰
کائنات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز اپنے امکان (potential) کو واقعہ (actual) بنا رہی ہے۔ مثلاً درخت کا بیج اپنے امکان کو آخری حد تک واقعہ بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایٹم اپنے امکان کو آخری حد تک واقعہ بنائے ہوئے ہے، وغیرہ۔ یہ صرف انسان ہے جو اتھاہ امکان لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے امکانات کو تکمیل تک پہنچائے بغیر مر کر دفن ہو جاتا ہے۔ انسان کے مائنڈ میں سویلین بلین بلین پارٹیکل ہیں۔ انسان کا مائنڈ اتھاہ امکانات کا خزانہ ہے، لیکن انسان اس امکان کو بمشکل چند فیصد استعمال کرتا ہے اور پھر موت اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ موت کا مثبت تصور ہی موت کا حقیقی تصور ہے۔ کیوں کہ تمام متعلق حقائق (relevant data) اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ موت کے مثبت تصور کا مطلب یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت ابدی زندگی میں داخلے کا دروازہ ہے۔ موت کے بعد آدمی اُس طویل تر مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو پا سکے۔ جہاں اس کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنی ہستی کے اتھاہ امکانات کو بروئے کار لا سکے۔
موت کے مثبت تصور کا پیغام یہ ہے کہ موت سے پہلے کے مختصر مرحلہ حیات میں اپنے اندر اُس ربانی شخصیت کی تعمیر کرو جو موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں تم کو تمھاری آرزوؤں کے مطابق، ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی دنیا میں جینے کا مستحق بنائے۔
سہارن پور (یو پی) میں مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں ۔ یہاں سے دعوتی مقصد کے لیے کتابیں مفت بھی حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ پتہ درج ذیل ہے:
Dr. Mohd. Aslam 3/1108, Dehradun Chowk Saharanpur-247001, U.P. Mob. 9997153735
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues