محاسبہ یا ڈی کنڈیشننگ
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۱
محاسبہ یا ڈی کنڈیشننگ
اسلام کی تعلیمات میں سے ایک بنیادی تعلیم وہ ہے جس کو محاسبہ (introspection) کہا جاتا ہے، یعنی اپنے آپ پر نظر ثانی کرنا، اپنے آپ کو خود سے جانچ کر اپنی اصلاح کرنا، اردو زبان میں اس عمل کو احتساب کہا جاتا ہے۔
محاسبہ کے بارے میں بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وزنوا قبل أن توزنوا، وتزينوا للعرض الأكبر (الترمذی، کتاب القیامة) یعنی اپنا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تمھارا حساب کیا جائے ، اپنے آپ کو تول لو اس سے پہلے کہ تم کو تولا جائے ، اور بڑی پیشی کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لو۔ اس حقیقت کو قرآن اور حدیث میں دوسرے الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أكثروا ذكر هادم اللذات الموت (الترمذی، کتاب القیامة) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔ موت کا سب سے زیادہ دہشت ناک پہلو یہ ہے کہ وہ اچانک آدمی کو اکیلا کر دیتی ہے۔ آدمی اچانک ہی ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی تمام چیزیں اُس سے چھوٹ جاتی ہیں۔ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو بے سہارا اور بے سرو سامان محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ احساس آدمی کو مکمل طور پر ہلا دیتا ہے۔ جو آدمی موت کی اس سنگین حقیقت کو سوچے ، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہ مکمل طور پر منٹ کو سائز (man cut to size) ہو جائے گا۔ یعنی ہر قسم کی مصنوعی بڑھوتری سے پاک ہو کر انسان اصلی بن جانا۔
محاسبہ کے عمل کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جا سکتا ہے، یعنی اپنے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹانا یہاں تک کہ آدمی کی اصل شخصیت سامنے آجائے۔ ہر آدمی مختلف قسم کے غیر فطری احساسات میں جیتا ہے۔ مثلاً احساسِ برتری، نفرت، انتقام،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues