محاسبہ یا ڈی کنڈیشننگ
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۲
جھنجھلاہٹ، اشتعال، وغیرہ۔ محاسبہ ان احساسات کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو آدمی برابر اپنا محاسبہ کرے، اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ اس کی شخصیت کے اوپر سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جائیں گے اور وہ اُس فطری حالت پر پہنچ جائے گا جیسا کہ خدا نے اس کو پیدا کیا تھا۔ اِسی حقیقت کو حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: کل مولود یولد علی الفطرۃ، فأبواه يهوّدانه أو ينصّرانه أو يمجّسانه (البخاری، کتاب الجنائز) اس قول رسول میں اس حقیقت کو بتایا گیا ہے جس کو آج کل کی زبان میں کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر عورت یا مرد کسی ماحول میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس ماحول کی نسبت سے ان کے ذہن کی تشکیل ہونے لگتی ہے۔ یہ عمل صبح و شام مسلسل طور پر جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ آدمی اپنے ماحول کی پیدا وار بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ اور اس کے جذبات پر ماحول کا اثر اس طرح غالب آ جاتا ہے کہ وہ اس کے خلاف کچھ سوچ نہیں پاتا۔ ہر انسان کو خدا نے حالت فطری پر پیدا کیا ہے، لیکن ماحول کی کنڈیشننگ کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کی فطری شخصیت ڈھک جاتی ہے۔ وہ ایک مصنوعی انسان بن کر رہ جاتا ہے۔ انسانی شخصیت کی اس مصنوعی تشکیل کو ختم کرنا اور اُس کو دوبارہ حالت فطری کی طرف لے جانا، ہر انسان کی سب سے پہلی ضرورت ہے، اور اسی عمل کا نام ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) ہے۔ ڈی کنڈیشننگ ایک نفسیاتی عمل ہے۔ اس کی ایک مادی مثال پیاز کی صورت میں دنیا کے اندر رکھ دی گئی ہے۔ پیاز ابتدائی شکل میں ایک چھوٹے سے مغز کا نام ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس پر پرتیں (layers) چڑھنے لگتی ہیں، یہاں تک کہ پیاز کا داخلی مغز پوری طرح پرتوں سے ڈھک جاتا ہے اور داخلی مغز کو پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی بیرونی پرتوں کو ایک ایک کر کے اس سے جُدا کر دیا جائے۔
موجودہ زمانے میں عام طور پر لوگ ٹینشن کی شکایت کرتے ہیں۔ ذہنی تناؤ موجودہ زمانے کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ہر قسم کا دنیوی سامان اکٹھا کرنے کے باوجود وہ ذہنی تناؤ میں جیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً سر درد ہونا، نیند میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues