Al-Risala · March 2007 · page 33

To see his desires by detaching the reality.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳

نہ آنا، ہاضمے کی خرابی، ڈایابیٹس، اور بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، وغیرہ۔ اس معاملے کو بھی کنڈیشنگ اور ڈی کنڈیشنگ کے اصول کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔

جائزہ بتاتا ہے کہ ایسے تمام لوگ ذہنی عدم اطمینان کا شکار رہتے ہیں۔ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ساری کوششوں کے باوجود وہ اپنے مطلوب کو نہ پاسکے۔ انھوں نے جن چیزوں کو حاصل کیا، اُن میں سے ہر چیز کا حال یہ تھا کہ اُن میں پھول کے ساتھ کانٹا بھی موجود تھا۔ کانٹا ان کے لیے غیر مطلوب چیز بن گئی۔ اس کے نتیجے میں وہ ذہنی بے اطمینانی کا شکار ہوگئے اور آخرکار ذہنی تناؤ کے مریض بن کر رہ گئے۔ اس معاملے کا حل ڈی کنڈیشنگ ہے۔ یہاں ڈی کنڈیشنگ کیا ہے۔ ڈی کنڈیشنگ دراصل یہ ہے کہ آدمی خواہش کو حقیقت و واقع سے الگ کرکے دیکھ سکے:

To see his desires by detaching the reality.

اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے لیے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتا ہے جہاں وہ اپنی خواہشوں (desires) کو لامحدود طور پر پورا کرسکے، مگر جب وہ دنیا میں اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ہر قدم پر حد بندیاں (limitations) موجود ہیں۔ مختلف قسم کی رکاوٹیں اس بات کو ناممکن بنا دیتی ہیں کہ وہ یہاں اپنی خواہشوں کی دنیا تعمیر کرسکے۔ نقصان، اندیشہ، حادثہ، بیماری، بڑھاپا، موت اور اس طرح کی دوسری ناموافق چیزیں آدمی کے لیے حصول مقصد کی راہ میں فیصلہ گن طور پر رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ بظاہر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ ذہنی تناؤ کا شکار بن جاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی خواہش کو خارجی حقیقتوں سے الگ کردینا۔ جو آدمی ایسا کرے اس کو فورا ذہنی سکون حاصل ہوجائے گا۔ اب اس کی سوچ یہ بنے گی کہ جو کچھ مجھے ملا، عملاً وہی مل سکتا تھا، اس سے زیادہ کو پانا میرے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور جس چیز کو پانا ممکن ہی نہ ہو اس کا غم کرنے کی کیا ضرورت۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page