Al-Risala · January 2007 · page 13

نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳

محترم المقام حضرت مولا نا وحید الدین خاں صاحب مدظلہم العالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گرامی نامہ موصول ہوا۔ اس ناچیز کے لیے آپ نے زحمت اٹھائی اس کا شکریہ۔ آپ نے جو کچھ تحریر فر مایا ہے میں اس کے لفظ لفظ سے متفق ہوں۔ اس سے پہلے ایک خط میں اپنی یہ غلطی صاف طور پر قبول کر چکا ہوں کہ دنیا کے دار دعوت ہونے کے سلسلے میں یوسف القرضاوی وغیرہ کی طرف جو بات میں نے منسوب کر دی تھی وہ میری غلطی تھی۔ ہاں ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ بعض علما، قدیم فقہاء وعلماء کے برعکس، دنیا کو دوداروں دارالاسلام ودار الحرب میں تقسیم کرنے کے سلسلے میں کچھ نئے انداز سے سوچنے لگے ہیں۔ اس کے ثبوت کے طور پر محمد محروس مدرس الاعظمی کے مضمون کی اردو تلخیص کا ایک تراشہ بھی آپ کی خدمت میں راقم نے روانہ کیا تھا۔ اس مسئلے میں آپ کے استثناء کے ساتھ باقی اکثر علماء کوئی نئی بات کہنی بھی چاہتے ہیں تو گول مول انداز میں کہتے ہیں۔ ایسی ہی بعض تحریروں کے مطالعہ سے غلطی سے راقم نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ بعض علماء دنیا کو دار الدعوہ سمجھنے اور کہنے لگے ہیں۔ یہ بات اگر بعض علماء کی نسبت سے صحیح بھی ہو تب بھی بغیر حوالہ کے ایسا کہنا درست نہ تھا۔ بذریعہ فیکس طہ جابر العلوانی کی تحریر کا جو صفحہ میں نے روانہ کیا تھا اس کا مقصد اپنی کسی بات کی پیچ کرنا نہیں تھا بلکہ آپ کے سامنے صرف یہ رکھنا تھا کہ بعض جدید عرب علماء بھی اس انداز میں سوچتے ہیں۔ باقی علوانی کی اس تحریر پر آپ کا نقد نہایت مضبوط ہے۔ آپ کا یہ فرمانا بھی بالکل بجا ہے کہ موجودہ دور کے تمام علماء و فقفاء اس موضوع پر کنفیوژن کا شکار ہیں۔ خاکسار کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ان کی اکثریت قدیم فقہی لٹریچر اور مصطلحات کی اسیر ہے۔ وہ اس نپے تلے فقہی چوکھٹھ سے باہر آنے کی ہمت نہیں کر پاتے، لہذا ان کی ساری بحث دار الكفر دار الاسلام، پھر دار الكفر کی مزید تقسیمات دار العہد، دار الامن ودار الحرب وغیرہ کے گرد ہی گھومتی ہے۔ نتیجہ میں کنفیوژن پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ چوں کہ نئے انداز سے سوچنے کی ہمت اور اجتہادی بصیرت رکھتے ہیں اور عصری اسلوب میں اپنی بات کہنے کا فن بھی جانتے ہیں۔ لہذا آپ کی تحریروں میں غموض اور ابہام کی جگہ شجاعت اور وضاحت پائی جاتی ہے۔ جو ایک پڑھے لکھے قاری کو اپیل بھی کرتی ہے۔ لیکن اس کو کیا کیجئے کہ عرب ہوں یا عجم، مسلم امت ان چیزوں کو ابھی تک محض روایتی انداز میں دیکھنے اور برتنے کی عادی ہے۔ عام علماء اور وہ لوگ جو مزعومہ تحریکات اسلامیہ سے وابستہ ہیں دعوت دعوت تو ضرور چلاتے ہیں، لیکن وہ دعوت کو آخرت سے جوڑنے اور اسے ہر صاحب ایمان کی ذاتی، دینی، انسانی و اخلاقی ذمہ داری کے بجائے ” امامت عالم اور قیادت عالم“ کے مزعومہ تصورات سے ہی جوڑ کر دیکھنے کے عادی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page