تزکیہ نام ہے تربیتِ شعور کا
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۴
تزکیہ نام ہے تربیتِ شعور کا
قرآن کی سورہ نمبر 3 میں ارشاد ہوا ہے: (زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ آل عمران: 14) یعنی لوگوں کے لیے خوش نما کر دی گئی ہے محبت خواہشوں کی۔ اسی طرح قرآن کی سورہ نمبر 49 سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر شعوری طور پر کیے ہوئے اعمال بھی قابلِ مواخذہ ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا: أن تحبط أعمالكم وأنتم لا تشعرون (الحجرات : 2) یعنی ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ ان دونوں آیتوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ ایک آیت کو سمجھنے سے دوسری آیت سمجھ میں آتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے ذہن کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک کو شعوری ذہن (conciousmind) اور دوسرے کو غیر شعوری ذہن (unconscious mind) کہا جاتا ہے۔ انسان کے تمام اعمال، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کے سب ذہن کے تحت واقع ہوتے ہیں۔ کچھ اعمال کا تعلق شعوری ذہن سے ہے اور کچھ اعمال کا تعلق غیر شعوری ذہن سے۔ انسانی جسم کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خود جسم کے تحت نہیں ہوتا، بلکہ سب کا سب براہِ راست اس کے ذہن سے کنٹرول ہوتا ہے۔ اسی کو مذہبی اصطلاح میں نیت کہا جاتا ہے۔
کوئی غلط یا نامناسب کام جب آدمی پہلی بار کرتا ہے تو وہ اس کو اپنے شعور کے تحت کرتا ہے۔ مثلاً مزاحیہ کلام کو لیجیے ۔ آپ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہاں ایک سنجیدہ موضوع پر گفتگو ہو رہی ہے۔ اس دوران آپ کے ذہن میں ایک مزاحیہ بات آگئی۔ اب آپ کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ سوچیں کہ ہنسی مذاق کی بات کرنا کسی سنجیدہ انسان کے لیے مناسب نہیں ہے۔ یہ سوچ کر آپ چپ ہو جائیں۔ یہی طریقہ صحیح طریقہ ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کے ذہن میں کوئی مزاحیہ بات آئی اور آپ نے فوراً اس کو کہہ دیا۔ لوگ اس کو سن کر ہنسنے لگے۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کے شعوری ارادے میں ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues