تزکیہ نام ہے تربیتِ شعور کا
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۵
درجے کی کمزوری آجاۓ گی۔ اس کے بعد آپ جب بار بار ایسا ہی کریں اور مزاحیہ کلام بول کر لوگوں کو ہنساتے رہیں تو یہ انداز آپ کی عادت (habit) بن جاۓ گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ انداز آپ کے شعور سے گزر کر آپ کے لاشعور میں داخل ہو جاۓ گا۔ یہاں پہنچ کر مزاحیہ کلام کے بارے میں آپ کی حساسیت ختم ہو جاۓ گی۔ اب ایسا ہوگا کہ آپ ہر بار مزاحیہ کلام بول کر لوگوں کو ہنساتے رہیں گے اور آپ کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ آپ کوئی غیر سنجیدہ کام کر رہے ہیں۔ اسی بات کو قرآن کی مذکورہ آیت میں تزئین کہا گیا ہے۔
اس لیے جو شخص اپنا تزکیہ چاہتا ہو، اس کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ پہلے ہی مرحلے میں اپنے کو چیک کرے ۔ پہلی بار جب اس کے ذہن میں کوئی مزاحیہ بات آۓ تو وہ اس کو زبان پر آنے سے روکے ۔ اس طرح ایسا ہوگا کہ مزاحیہ بات کرنا اس کی عادت کا حصہ نہیں بنے گا۔ ہر ایسے موقع پر اس کا شعور فوراً متحرک ہو جاۓ گا اور اس کو یہ کہہ کر روک دے گا کہ ہنسی مذاق کی بات کرنا، ایک غیر سنجیدہ فعل ہے۔ وہ کسی انسان کے لیے کوئی مناسب روش نہیں۔
اسی ایک مثال سے بقیہ تمام معاملات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ انسان کے اندر جتنی بھی غلط یا نامناسب باتیں پائی جاتی ہیں، وہ سب اسی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ آدمی ایک نامناسب روش کو جب بار بار اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے لاشعور میں داخل ہو کر اس کی عادت بن جاتی ہے۔ وہ عادت کے طور پر (habitual way) میں اس کو کرنے لگتا ہے۔ آدمی کو جاننا چاہیے کہ اس قسم کی روش پر بھی اس کا مواخذہ ہوگا۔ اس سے کہا جاۓ گا کہ تم کو چاہیے تھا کہ تم پہلے ہی مرحلے میں اپنے شعور کو متحرک کر کے اپنے آپ کو غلط روش سے باز رکھتے۔ تم اپنے آپ کو اس سے بچاتے کہ یہ چیز تمھارے لاشعور میں داخل ہو کر تمھاری عادت بن جاۓ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues