امید پر خاتمہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶
امید پر خاتمہ
ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں رشی کیش مکھرجی (Hrishikesh Mukherjee) ایک معروف نام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 27 / اگست 2006 کو بمبئی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 84 سال تھی۔ اپنے آخری زمانے میں انھوں نے بمبئی کے ایک مکان میں تنہائی کی زندگی گزاری۔ ان کے ساتھ صرف اُن کا گھریلو ملازم مینو (Meno) رہ گیا تھا۔ انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ 28 اگست 2006 میں ان کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں رپورٹر نے ان کے متعلق یہ الفاظ لکھے ہیں:
His last stage was painful. Dialysis, ventilators were his companions for the last three months or more. More than that there were the sorrows of his personal life. His wife, his brothers, even his younger son had passed away. He lived all alone in Mumbai, with only Meno (domestic help) p. 10 مکھرجی کے ایک قریبی دوست مسٹر سین (Mrinal Sen) آخری دنوں میں ملاقات کے لیے اُن کے گھر گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ مکھرجی نے اپنے کمرے اور اپنے باتھ روم کی تمام دیواروں پر آئینے لگا رکھے ہیں۔ یہ منظر ان کو عجیب معلوم ہوا۔ انھوں نے مکھرجی سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ چلیے ہم باہر بیٹھ کر سورج کے غروب ہونے کا منظر دیکھیں گے۔ چناںچہ ہم لوگ باہر بیٹھ گئے۔ جب سورج غروب ہوا تو مکھرجی نے اپنا طویل سکوت توڑتے ہوئے کہا کہ ـــ ایک دن اور کٹ گیا:
One more day has gone by.
جب میں نے اس رپورٹ میں رشی کیش مکھرجی کا حال پڑھا تو میں نے سوچا کہ یہ اُس انسان کا المیہ ہے جس کو زندگی کی حقیقت معلوم نہ ہوسکی۔ جو اپنی عمر کا ایک ایک دن مایوسی کی حالت میں گزار رہا تھا۔ اس کے برعکس حال اُس انسان کا ہوتا ہے جس نے سچائی کو دریافت کیا ہو۔ جو اس حقیقت کو جان
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues