One more day closer to Paradise.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷
چکا ہو کہ موت کے بعد وہ اگلے دورِ حیات میں داخل ہوگا جہاں خدا کی ابدی جنت ہے اور وہاں خدا کی رحمتیں سچے انسان کا انتظار کر رہی ہیں۔ ایسا آدمی زبانِ حال یا زبانِ قال سے کہے گا کہ جنت ایک اور دن قریب آگئی:
One more day closer to Paradise.
یہ حقیقت پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابو ہریرہ کی زندگی سے معلوم ہوتی ہے۔ ابو ہریرہ (عبدالرحمن بن صخر الدوسی) نے 80 سال کی عمر میں 679 عیسوی میں مدینہ میں وفات پائی۔ روایات میں آیا ہے کہ آخر عمر میں ابو ہریرہ سخت بیمار ہوئے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر ان کی بیوی کی زبان سے نکلا: وا کر باه! (ہائے تکلیف) ابو ہریرہ نے سنا تو کہا: وا طر باه! (ہائے خوشی) پھر انھوں نے کہا کہ کل میں اپنے ساتھیوں سے ملوں گا، محمد سے اور ان کے گروہ سے۔ (غداً نلقي الأحبة، محمداً و حزبه)
مذکورہ دونوں واقعات کے درمیان یہ فرق بتاتا ہے کہ حقیقت سے بے خبر انسان اور حقیقت سے باخبر انسان کا معاملہ کیا ہوتا ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو نہ جانتا ہو کہ بعد از موت بھی زندگی ہے جس کو اگلے دورِ حیات کی خبر نہ ہو، وہ چند دن کے لیے موجودہ دورِ حیات میں بظاہر خوش نظر آتا ہے لیکن جب وہ بوڑھا ہوتا ہے اور وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچتا ہے تو اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ آگے اس کے لیے تاریکی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ احساس اس کو مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کا خاتمہ اس طرح ہوتا ہے کہ اس کے پاس ناامیدی کے سوا کوئی اور سرمایہ نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جس کو سچائی کی دریافت ہو گئی ہو۔ جو خدا کی تخلیقی اسکیم (creation plan) کو جان چکا ہو۔ جس کو یہ معلوم ہو کہ قبل از موت دورِ حیات میں اُس کو خدا رخی زندگی (God-oriented life) گزارنا ہے، تاکہ بعد از موت دورِ حیات میں وہ اس کے انعام کے طور پر خدا کی ابدی جنت میں جگہ پائے۔ ایسے آدمی کے لیے زندگی امید سے بھرا ہوا ایک تجربہ ہے۔ وہ امید کے ساتھ جیتا ہے اور امید کے ساتھ موت کا استقبال کرتا ہے۔ ایسے انسان کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues