Al-Risala · March 2007 · page 39

عورت معاون حیات

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹

عورت معاون حیات

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں عورت اور مرد کے تعلق کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ’’تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں۔ پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ، اور اپنے لیے آگے بھیجو، اور اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تمھیں ضرور اُس سے ملنا ہے۔ اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دو‘‘:

And do good beforehand for yourselves. (2:223)

اس آیت میں—اپنے لیے آگے بھیجو (قدموا لأنفسکم ) کا لفظ بنیادی لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی مرکزی لفظ سے پوری آیت کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ آیت کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ تمھارا اصل نشانہ یہ ہونا چاہیے کہ تم وہ کام کرو جو مستقبل میں تمھارے لیے مفید بننے والا ہو (قدموا ما ينفعکم غداً ) یعنی آدمی موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے آپ کو اس طرح تیار کرے کہ وہ آگے آنے والی آخرت کی دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کر سکے۔ یہ کسی انسان کا اصل مقصدِ حیات ہے۔ آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اس مقصدِ حیات کی نسبت سے عورت کے معاملے کو سمجھو۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ایک معاونِ حیات کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ جس طرح کھیت کسی کسان کے لیے اس کے مقصد کی نسبت سے معاون کی حیثیت رکھتا ہے۔

جس زمانے میں یہ قرآنی آیت اتری، اُس زمانے میں مدینہ میں یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ عورت کا درجہ انسانی زندگی میں کیا ہے۔ اس معاملے میں لوگ اپنے سابق ذہنی نقشے کی بنا پر صرف دو باتیں جانتے تھے— صنفی تسکین اور بقائے نسل۔ قرآن میں بتایا گیا کہ اس قسم کے پہلوؤں سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ عورت تمھارے لیے اپنی زندگی کی تعمیر میں ایک معاون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے تم کو چاہیے کہ تم اپنے اس فطری معاون کا بھر پور استعمال کرو اور اس کو اپنی تکمیل حیات کا ذریعہ بناؤ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page