Al-Risala · March 2007 · page 40

عورت معاون حیات

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۴۰

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ذہنی ارتقاء (intellectual developement) ہے۔ اس ذہنی ارتقاء کے عمل میں سب سے زیادہ کار آمد چیز انٹلیکچول ایکسچینج (intellectual exchange) ہے۔ جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے جس کو چنگاری کہا جاتا ہے، اسی طرح جب دو انسانی ذہن کھلے طور پر انٹلیکچول ایکسچینج کرتے ہیں تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے دوران زیر بحث موضوع کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں اور اس طرح ذہنی ارتقاء کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے۔

انٹلیکچول ایکسچینج کا یہ عمل مرد کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور عورت کے ساتھ بھی۔ عورت چوں کہ مرد کے لیے ہر وقت کی ساتھی ہوتی ہے اس لیے دیگر افادی پہلوؤں کے علاوہ انٹلیکچول ایکسچینج کے معاملے میں وہ بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے یہاں خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا۔ کیوں کہ عورت ایک ایسی انٹلیکچول پارٹنر ہے جو کسی مرد کے لیے ہر وقت قابل حصول رہتی ہے۔

صنفی تعلق اگر مطلقا مطلوب ہوتا تو حضرت مسیح کو بھی ضرور اس کے مواقع دیے جاتے ۔ اسی طرح بقائے نسل اگر مطلقا مطلوب ہو تو حضرت محمد کے یہاں بھی اسے پایا جانا چاہیے۔ حالاں کہ دونوں مثالوں میں یہ چیز مفقود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے جو چیز مطلقا مطلوب ہے، وہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو جنتی انسان بنائے۔ اس عمل تزکیہ میں دوسری چیزوں کے ساتھ انٹلیکچول ایکسچینج لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں عملِ زراعت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

انٹلیکچول ایکسچینج کا ذریعہ مرد بھی ہو سکتے ہیں اور عورت بھی، مگر تعمیر شخصیت کے لیے یہ انتہائی ضروری عمل ایک قربانی چاہتا ہے اور وہ قربانی یک طرفہ صبر ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے ساتھ انٹلیکچول ایکسچینج کے عمل میں مشغول ہوتا ہے تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ بار بار اختلافی پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ اختلافی پہلو نارمل تبادلہ خیال میں رخنہ ڈالنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کی رائے دوسرے کی رائے سے ٹکرانے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مرد کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page