Al-Risala · January 2007 · page 14

نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴

ہیں۔ لہذا دعوت ان کے ہاں بھی ذمہ داری سے زیادہ فخر و مباہات کی نفسیات کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ "ہم ہی خیر امت ہیں"، ایک دعوے کے طور پر دہرایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ انقلابی تحریکات، اسلام سے زیادہ مسلم قومیت کے خودساختہ تصور کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسلامی دعوت کی صحیح اور واضح ترین نمائندگی صرف آپ کی فکر کرتی ہے۔ مسلمان، تحریکی لوگ ہوں یا علماء، سب آپ سے مخاصمانہ رویہ برتتے ہیں اس لیے وہ آپ کی دعوت اور فکر سے بھی عام مسلمانوں کو کاٹ دینے کی کوشش دانستہ کرتے رہتے ہیں۔

آپ اسے مبالغہ یا کذب بیانی خیال نہ فرمائیں۔ موجودہ علماء و مفکرین میں مجھے سب سے زیادہ آپ کی ہی تحریریں پسند ہیں۔ مسلم۔ سیاسی فکر، قانون بین الاقوامی، مسلمانوں کے غیر مسلم دنیا سے تعلقات کی نوعیت (مسالمہ یا محاربہ) وغیرہ)، مختلف موضوعات پر خاکسار کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا ہے۔ آپ بھی رہنمائی فرمائیں۔ والسلام غطریف شہباز ندوی ان کا یہ خط ملنے کے بعد میں نے انھیں ایک مختصر تحریر روانہ کی جو یہاں نقل کی جاتی ہے: برادر محترم مولانا غطریف شہباز ندوی السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ ملا، شکریہ۔ اب اس موضوع پر آپ سے خط و کتابت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

۷ اپریل ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ۴ ڈاکٹر محمد فاروق خان پاکستان کے ایک مسلم دانشور ہیں۔ ان کی ایک کتاب لاہور سے ۲۰۰۵ میں چھپی ہے۔ اس کتاب کے باب پنجم میں ایک ذیلی عنوان "دار الدعوة" کے تحت، انھوں نے یہ تحریر کیا ہے کہ اخوانی رہنما حسن البضیبی کے یہاں دار الدعوة کا تصور پایا جاتا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، یہ ایک بے بنیاد دعویٰ تھا۔ چنانچہ میں نے صاحب کتاب کو ایک خط لکھا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:

برادر محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کی تازہ کتاب "جہاد، قتال اور عالم اسلام" نظر سے گذری۔ اس کتاب کے ایک ذیلی عنوان "دار الدعوة" کے تحت، آپ نے لکھا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page