Al-Risala · January 2007 · page 15

نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵

دُورِ حاضر میں ایک نئی اصطلاح ”دار الدعوة“ استعمال کی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلم ممالک نہ دار الحرب ہیں اور نہ دار الکفر، بلکہ وہ ”دار الدعوة“ ہیں۔ یعنی یہ وہ ممالک ہیں جنھیں اسلام کی دعوت پہنچانا ہمارا کام ہے۔ یہ اصطلاح...... اخوان المسلمون کے مرشدِ عام امام حسن الہضیبی نے استعمال کی ہے۔ امام حسن الہضیبی نے اپنی کتاب ”دُعاۃ... لا قضاۃ“ ”یعنی ہم داعی ہیں نہ کہ قاضی“ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ اپنے موقف کو بیان کیا ہے کہ ہمارا کام کسی کو کافر اور دشمن قرار دینا نہیں، بلکہ تمام غیر مسلم ہمارے مدعو ہیں اور ہم داعی۔ یعنی ہم اُن کو اسلام کی دعوت پہنچانے کے مکلّف ہیں۔ (صفحہ ۹۵)

میں نے شیخ حسن الہضیبی کی کتاب ”دُعاۃ... لا قضاۃ“ پڑھی ہے، مگر میں نے اس میں وہ بات نہیں پائی جو آپ نے اُن کی بابت تحریر فرمائی ہے۔ حتّی کہ اس کتاب میں ”دار الدعوة“ کا لفظ بھی موجود نہیں۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ ”دار الدعوة“ کی یہ بات مذکورہ کتاب کے کس صفحے پر موجود ہے۔

نئی دہلی، ۱۹ جنوری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین میرے اس خط کا کوئی جواب صاحبِ کتاب کی طرف سے نہیں ملا۔ کافی انتظار کے بعد میں نے دوبارہ اُنھیں ایک خط روانہ کیا۔ میرے اس دوسرے خط کا مضمون یہ تھا:

برادرِ محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان!

عرض یہ کہ میں نے آپ کے نام ایک خط مورّخہ ۱۹ جنوری ۲۰۰۶ روانہ کیا تھا، مگر اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔ میں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ آپ نے اپنی کتاب میں مصری عالم، حسن الہضیبی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب ”دُعاۃ... لا قضاۃ“ میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ غیر مسلم اقوام ہماری مدعو ہیں اور ہم اُن کے لیے داعی ہیں، غیر مسلم ممالک کی حیثیت دار الدعوة کی ہے نہ کہ دار الحرب اور دار الکفر کی۔ میں نے لکھا تھا کہ مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے، مگر اس میں دار الدعوة کا لفظ کہیں موجود نہیں۔ آپ کے قریبی جواب کا انتظار ہے۔

نئی دہلی، ۶ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین السلام علیکم ورحمۃ اللہ محترم مولانا محمد ذکوان ندوی صاحب امید ہے آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔ محترم و مکرم مولانا وحید الدین خاں صاحب کا خط چند روز پہلے مجھے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page