Global warming is man-made
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۶
اس روایت میں واضح طور پر زمین سے تیل نکلنے کی پیشین گوئی ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سیال سونا (liquid gold) کہا جاتا ہے۔ یہ سیال سونا دریائے فرات کے علاقہ، بالمقابلہ دیگر شرقِ اوسط سے بہت بڑی مقدار میں نکلا ہے۔ اس صنعتی خزانے کے اوپر باقاعدہ لڑائیاں بھی ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں اور اس سے عظیم تباہی برپا ہوئی ہے۔
5- ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يبقىٰ علىٰ وجهِ الأرضِ بيتُ مَدَرٍ ولا وبَرٍ إلا أدخلَهُ اللهُ كلمةَ الإسلامِ (مسند احمد، مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 42) یعنی زمین کی سطح پر کوئی بھی گھر یا خیمہ باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
یہ حدیث رسول بھی واضح طور پر قربِ قیامت کی ایک علامت کو بتاتی ہے۔ زمین کی سطح پر بنے ہوئے تمام چھوٹے بڑے گھروں میں کلمہ اسلام کا داخل ہو جانا، قدیم زمانے میں ممکن ہی نہ تھا۔ یہ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے جب کہ مختلف قسم کے ذرائع ابلاغ وجود میں آئے ہیں، جن کو ملٹی میڈیا (multi media) کہا جاتا ہے۔ یہ جدید ملٹی میڈیا، اُس وقت ظہور میں آیا ہے جب کہ دوسری علاماتِ قیامت بالکل ظاہر ہو چکی ہیں۔ اس لیے یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ زمین کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں کلمہ اسلام کا داخل ہونا، قربِ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ کلمہ اسلام کا ہر گھر میں یہ داخلہ بالفعل واقع ہو چکا ہے۔ آج ٹیلی ویژن اور دوسرے وسائل ابلاغ کے ذریعے عملاً ہر گھر میں اسلام کا چرچا پہنچ چکا ہے۔ آج ہر جگہ اسلام نیوز میں آچکا ہے۔ بروقت اسلام کا یہ چرچا منفی خبر کی صورت میں ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس منفی خبر کو مثبت خبر بنا دیا جائے۔ یہ عمل بھی ساری دنیا میں مسلسل جاری ہے۔ اسلام کے منفی چرچا کی بنا پر یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا میں لوگوں کے اندر اسلام کو جاننے کے لیے تجسس (curiosity) پیدا ہو چکی ہے۔ لوگ کثرت سے اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ گویا کہ اسلام کا کلمہ پچاس فیصد ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے۔ اور بقیہ پچاس فیصد داخلے کا عمل برابر جاری ہے۔ یقینی ہے کہ جلد ہی یہ عمل اپنی انتہا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues