Global warming is man-made
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۷
کو پہنچ جائے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہوگا کہ وہ قیامت اب بالکل قریب آگئی جس کی خبر خدا کے پیغمبروں نے دی تھی۔
حدیث کے مطالعے سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے تین نفحات پیش آئیں گے ـــ نفخة الفزع، نفخة الصّعق، نفخة القیام نفخ کا اسم مرّہ ہے۔ نفخ کے معنی پھونکنے کے ہوتے ہیں ، اسی لیے کہا جاتا ہے نفخت الریح، یعنی ہوا کا جھونکا اچانک آگیا۔ اسی لیے صور پھونکے جانے کو نفخ کہا گیا ہے۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ حدیث میں جن تین نفحات کا ذکر ہے، وہ یہ ہیں ـــ پہلا، الارمنگ بلو (alarming blow) اور دوسرا ، ڈیٹھ بلو (death blow) اور تیسرا، رائزنگ بلو (rising blow) ۔
راقم الحروف کے اندازے کے مطابق، سائنسی سروے کی مذکورہ رپورٹ جو انتہائی نشانیاں (Warning Signs) کے نام سے چھپی ہے، وہ ’نفخة الفزع‘ (alarming blow) کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ گویا قرب قیامت کا پہلا اعلان ہے جو سائنس کی زبان میں کیا گیا ہے۔ دوسرا نفخہ موت کا نفخہ ہوگا جب کہ تمام انسان مر جائیں گے۔ اُس کے بعد تیسرا نفخہ ہوگا جب کہ لوگ دوبارہ زندہ ہو کر خدا کے سامنے میدانِ حشر میں اکٹھا کیے جائیں گے۔
قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ : إنّ الساعة لآتية لا ريب فيها (المؤمن : 59) یعنی قیامت یقیناً آنے والی ہے، اُس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ علامات بتاتی ہیں کہ یہ آنے والا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے جب کہ انسان تو بہ کرے اور خدا کی رحمت میں پناہ لینے کی طرف دوڑ پڑے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues