احیائے اسلام
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۸
احیائے اسلام
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الله يبعث على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم)۔ یعنی اللہ ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو اٹھائے گا جو دین اسلام کی تجدید کرے گا۔
تجدد کے لفظی معنی ہیں، نیا کرنا (to renew)۔ حدیث میں یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے کہ اُمت کے اندر جب دین کا تصور گرد آلود ہو جائے تو اُس کو دوبارہ صاف کر کے اُس کی اصل صورت میں نمایاں کیا جائے ۔ اس عمل کے لیے حدیث میں دوسرا لفظ احیاء (revival) بھی آیا ہے۔ دونوں لفظوں کا مطلب ایک ہے۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خير القرون قرنى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم (سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اُس کے بعد، اور پھر اُس کے بعد) اس حدیث میں تین ادوار کے بارے میں خیر کی شہادت دی گئی ہے۔ علماء نے ان تین دوروں کو قرون مشہود لہا بالخیر قرار دیا ہے، یعنی وہ ادوار جن کے خیر ہونے کی گواہی دی جا چکی ہو۔ ان تین زمانوں سے مراد ہیں۔ عہدِ رسالت ، عہدِ صحابہ ، عہدِ تابعین۔
اصل یہ ہے کہ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں توحید کی دعوت اُٹھی تو اُس وقت جو لوگ اُس میں شامل ہوئے وہ ایسے لوگ تھے جنھوں نے معرفت یا شعوری دریافت کے ذریعے دین حق کو پایا تھا۔ یہ اعلیٰ درجے کے لوگ تھے۔ دوسری نسل میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے ، وہ معرفت کے اعتبار سے پہلی نسل کے برابر نہیں ہو سکتے تھے۔ اس کے بعد تیسری نسل میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے وہ فطری طور پر معرفت میں کچھ اور کم ہو چکے تھے۔ اس طرح نسل در نسل یہ ہوتا رہا کہ بعد کے زمانے میں جو لوگ ملت اسلامی کا حصہ بنے اُنھیں اسلام زیادہ ترنسلی تعلق کے ذریعے حاصل ہوا تھا، نہ کہ شعوری دریافت کی بنا پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues