Al-Risala · April 2007 · page 9

احیائے اسلام

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۹

فطرت کے اسی قانون انحطاط (degeneration) کی بنا پر وہ صورتِ حال پیش آتی ہے جس میں اسلام کی تجدید یا ملت کے احیاء کا عمل کیا جائے۔ ہر ایک سوسال، بالفاظِ دیگر چند نسلوں کے گزرنے کے بعد، ملت کے اندر اتنا زوال آچکا ہوتا ہے کہ اُس وقت یہ ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی صاحبِ معرفت شخص اُٹھے جو افرادِ ملت کے رسمی ایمان کو دوبارہ عارفانہ ایمان بنائے۔ جو لوگوں کے تقلیدی اسلام کو دوبارہ تخلیقی اسلام کا درجہ دے۔ جو اسلام کو بعد کے اضافوں اور ملاوٹوں سے پاک کرکے اُس کو اُس کی خالص صورت میں پیش کرے۔

یہ کام کوئی آسان کام نہیں، وہ بے حد مشکل کام ہے۔ زمانہ گزرنے کے بعد ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اصلی اور ابتدائی اسلام کو بھول جاتے ہیں۔ وہ بعد کے مبتدعانہ اسلام ہی کو اصل اسلام سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی کوئی مجدد اٹھتا ہے تو وہ لوگوں کے درمیان فوراً ایک نزاعی شخصیت بن جاتا ہے۔ اُس کا بتایا ہوا دین لوگوں کو اجنبی معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بدأ الاسلام غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا تو سعادت مندی ہے ایسے اجنبیوں کے لیے۔

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’قرونِ مشہود لھا بالخیر‘ کے بعد امت میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے، جنھوں نے اپنے اپنے حالات میں تجدید کا کام کیا۔ مجددین کی کوئی حتمی فہرست بنانا ممکن نہیں۔ تاہم اس سلسلے میں مثال کے طور پر چند نام یہ ہیں— حسن بصری، عمر بن عبدالعزیز، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، اشرف علی تھانوی، وغیرہ۔

مولا نا اشرف علی تھانوی نے اپنے بارے میں کہا تھا— مجدد کامل تو نہیں، مگر مجددِ معاشرت ضرور ہوں۔ میرے نزدیک یہی معاملہ تمام مجددین امت کا ہے۔ پچھلے زمانوں میں جتنے مجدد اٹھے وہ سب جُزئی معنوں میں مجدد تھے، نہ کہ کُلی معنوں میں۔ میرے مطالعے کے مطابق، مجددِ کامل صرف آخری زمانے میں پیدا ہوگا اور غالباً وہ وہی ہے جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ مہدی دراصل

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page