احیائے اسلام
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۱۰
مجد دِ کامل کا دوسرا نام ہے۔ مزید یہ کہ مہدی صرف مہدی ہوگا، وہ ہادی نہیں ہوگا۔ یعنی وہ خود اعلیٰ درجے کی معرفت دین کا حامل ہوگا اور وہ دوسروں کو اس سے باخبر کرے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوگا کہ اُس کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے ، وہ سارے عالم میں ہدایت کا انقلاب برپا کر دے اور وہ پورے کرہ ارض پر اسلام کی حکومت قائم کر دے۔
جزئی مجدد کا مطلب ناقص مجدد نہیں ہے اور نہ کامل مجدد کا مطلب معیاری مجدد ہے۔ یہ دونوں الفاظ نوعیت کار کو بتانے کے لیے ہیں ، نہ کہ امتیازی رتبے کو بتانے کے لیے۔ اصل یہ ہے کہ پچھلے ادوار میں زندگی کا وہ روایتی نظام ٹوٹا نہیں تھا جو مذہبی اور اخلاقی اور روحانی قدروں پر بنا تھا۔ اُس میں صرف جزئی خرابیاں پیدا ہوئی تھیں ۔ چنانچہ پچھلے زمانوں میں محدود تجدیدی کام مطلوب تھا جس کو جزئی مجددین نے انجام دیا۔ مگر سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد دنیا بالکل بدل گئی ہے۔ صدیوں کا روایتی ڈھانچہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ اس بنا پر بعد کے زمانے میں صرف محدود تجدیدی کام کافی نہیں۔ بعد کے حالات میں ضروری ہوگا کہ ایسا شخص اُٹھے جو انقلابی معنوں میں تجدیدی کام انجام دے۔ یہ فرق درجے کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ضرورت کے اعتبار سے ہے۔
دورِ اول کے بعد کی صدیوں میں تجدید کے جو کام ہوئے ہیں اُن کی تفصیل بیان کرنا یہاں مقصود نہیں۔ البتہ اِس معاملے کی وضاحت کے لیے کچھ مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ 1۔ میرے اندازے کے مطابق ، اسلام کی تاریخ میں پہلا انحطاط خلفاء راشدین کے آخری زمانے میں شروع ہوا۔ یہ انحطاط ، حدیث کے الفاظ میں، خشوع کے خاتمے کی صورت میں پیدا ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اکثریت کے اندر دین کی اسپرٹ باقی نہ رہی۔ دین اب بھی بظاہر پوری طرح موجود تھا مگر وہ فارم کے اعتبار سے تھا ، نہ کہ اسپرٹ کے اعتبار سے۔ یعنی حدیث کے الفاظ میں مسجدیں بظاہر نمازیوں سے بھری ہوئی تھی، مگر وہ داخلی ہدایت سے خالی تھیں (مساجدھم عامرة وهي خراب من الھدیٰ)۔
اِس صورت حال کے پیدا ہونے کے بعد اُمّت میں بہت سے مصلحین اُٹھے۔ ایک علامتی نام
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues