Al-Risala · April 2007 · page 11

احیائے اسلام

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱

کے طور پر یہاں حسن بصری کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ حسن بصری اور دوسرے تابعین اور تبع تابعین نے روحِ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی کوششیں کیں۔ یہی وہ سلسلہ اصلاح ہے جس نے بعد کو تصوف یا صوفی ازم کی زیادہ منظم صورت اختیار کی۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صوفی ازم اسلام کی اصل روح (ربانیت) کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ اگر چہ یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ صوفیاء اپنی اس کوشش میں کتنا کامیاب ہوئے۔

2- عمر بن عبدالعزیز (وفات 101 ھ) علم اور اخلاص دونوں میں اعلیٰ درجہ رکھتے تھے۔ اُن کو مجددِ دین امت میں شمار کیا جاتا ہے۔ اُن کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے سیاست میں غیر دینی عناصر کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے اپنے ڈھائی سالہ دورِ حکومت کو دوبارہ خلافتِ راشدہ کے نمونے پر قائم کیا۔ چنانچہ اُنھیں پانچواں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز اور بھی کئی اہم کام کرنا چاہتے تھے، مثلاً احادیثِ رسول کی تدوین، مگر جلد وفات کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ 3- بنو امیہ کے دور میں یہ ہوا کہ اسلام کا شورائی نظام حکومت باقی نہ رہا۔ وہ ملوکیت کے ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا۔ اس تبدیلی کو جائز قرار دینے کے لیے اُنھوں نے خلیفہ کا لفظ استعمال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر صدیق ، عمر فاروق، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب کو خلیفہ نہیں کہا گیا تھا بلکہ اُن میں سے ہر ایک کو امیر المومنین کہا جاتا تھا۔ بنو امیہ نے اپنے زمانے میں پہلی بار خلیفہ کا لفظ اپنے حکمرانوں کے لیے رائج کیا۔ یہ ایک قسم کی سیاسی بدعت تھی۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس سیاسی بدعت کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ تاہم قلیل مدت کی بنا پر وہ اس میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 4- بنو عباس کے زمانے میں ایک نئی چیز وجود میں آئی۔ وہ یہ کہ عباسی حکمرانوں کے زیرِ اثر فقہاء نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا— دار الاسلام اور دار الحرب۔ اُن کے نزدیک ، دار الاسلام وہ ملک تھا جہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو اور دار الحرب وہ ملک تھا جہاں مسلم حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہو اور اس بنا پر وہ امکانی طور پر مسلمانوں سے بر سرِ جنگ (potentially at war) کی حیثیت رکھتا ہو۔ دار الاسلام اور دار الحرب کا یہ تصور قرآن اور حدیث

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page