احیائے اسلام
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۱۲
میں موجود نہ تھا۔ وہ صرف اس لیے اختیار کیا گیا کہ وہ اُس وقت کے مسلم حکمرانوں کے تووسی عزائم سے موافقت رکھتا تھا۔
میرے نزدیک اس کی ضرورت تھی کہ دار الاسلام اور دار الحرب کی اس سیاسی بدعت کے خلاف تجدیدی آواز بلند ہو۔ مگر فقہاء نے اس تقسیم کو عمومی طور پر قبول کر کے اُسے ایک شرعی سند دے دی جو یقینی طور پر درست نہ تھی۔ میرے نزدیک دار الاسلام کے سوا جو ملک ہیں اُن کو دار الانسان یا دار الدعوہ کہا جانا چاہیے، نہ کہ دار الحرب یا دار الکفر ۔
5۔ اسی طرح کے انحراف کی ایک مثال وہ ہے جو ترکوں کی عثمانی خلافت کے زمانے میں پیدا ہوئی۔ انیسویں صدی کے آخر میں مغربی افکار کے زیر اثر عرب قومیت کی تحریک عرب ملکوں میں پھیلی۔ اُس وقت یہ عرب ممالک ترکی کی عثمانی خلافت کے ماتحت تھے۔ عرب ملکوں میں ان کے خلاف رجحان پیدا ہوا۔ اس رجحان کا آغاز لبنان میں ہوا اور پھر وہ مصر اور دوسرے ملکوں میں پھیل گیا۔ اس تحریک کا نشانہ یہ تھا کہ ہر عرب ملک میں قومی اسٹیٹ بنائی جائے جو وطنی مفاد کے مطابق کام کرے۔ اس تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ترکی کے خلیفہ عبد الحمید ثانی کے زمانے میں الامۃ کا تصور ابھرا۔ اس کے مطابق، تمام دنیا کے مسلمان ایک قوم تھے۔ مسلمانوں کی قومیت مبنی بر وطن نہ تھی بلکہ وہ اُن کے مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ مذہبی قومیت کا یہ تصور مسلم لیڈروں میں عام طور پر مقبول ہو گیا۔ سید جمال الدین افغانی، امیر شکیب ارسلان، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، ابوالکلام آزاد، آیت اللہ خمینی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، محمد علی جناح، وغیرہ سب اس کے حامی بن گئے۔
میرے نزدیک یہ ایک گمراہ کن نظریہ تھا۔ اس نظریے کے تحت بیش تر ملکوں کے مسلمان خود اپنے ملک میں غیر وفادار بن کر رہ گئے۔ کیوں کہ اس عقیدہ کے مطابق، اُن کی قومیت مبنی بر وطن نہ تھی بلکہ بنی بر مذہب تھی۔ بدقسمتی سے اس پورے دور میں کوئی قابلِ ذکر مسلم رہنما ایسا نہیں اٹھا جو اس بے بنیاد نظریے کی غلطی واضح کرے اور مسلمانوں کو اس سے بچائے کہ وہ دورِ جدید میں خود اپنے وطن میں مشکوک ہو کر رہ جائیں۔ یہ بلاشبہ ایک تجدیدی کام ہے اور ضروری ہے کہ بلا تاخیر اُس کو انجام دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues