فإن القتال سبيل الرشاد هلم نقاتل هلم نقاتل
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳
6۔ موجودہ زمانے میں ایک اور سنگین نوعیت کا انحراف پیدا ہوا ہے جس کو تہذیبوں کا تصادم (clash of civilizations) کہا جاتا ہے۔ یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ صلیبی دور ایک نئی صورت میں تاریخ میں دوبارہ واپس آ گیا ہے۔ مسلمانوں کو دوسری قوموں کی سازش اور دشمنی کا سامنا ہے۔ یہ ایک سنگین چیلنج ہے جس کا مقابلہ صرف مسلح جہاد کے ذریعے ہو سکتا ہے (الجهاد هو الحل الوحید)۔ اسی ذہن کی ترجمانی ایک عرب شاعر نے اس طرح کی ہے:
جدّدی حطّین أو شبہ حطّينا هات صلاح الدين ثانيةً فينا اسی ذہن کی نمائندگی فلسطینیوں کے قومی ترانے میں اس طرح کی گئی ہے:
فإن القتال سبيل الرشاد هلم نقاتل هلم نقاتل
میرے نزدیک یہ ایک سنگین نوعیت کا انحراف ہے۔ اس کے نتائج ہر اعتبار سے مسلمانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں بھی کوئی قابل ذکر رہنما نہیں اٹھا جو اس معاملے میں تجدیدی ذمے داری کو انجام دے۔ وہ اس مفروضہ صلیبی جنگ کے تصور کو فکری اعتبار سے ختم کرے اور اس طرح مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کو مسلح جہاد کے بجائے پر امن دعوت کی بنیاد پر قائم کرے ۔
7۔ اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اُس کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک اسلام اپنی پوری عظمت کے ساتھ تاریخ میں مارچ کرتا رہا۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں صورت حال بدل گئی۔ اب اسلام یا ملت اسلام کا زوال شروع ہو گیا۔ یہ زوال مسلسل بڑھتا رہا اور وہ اب تک جاری ہے۔ پچھلے تقریباً تین سوسال کے درمیان تجدید اور احیاء نو کے نام پر بہت بڑی بڑی تحریکیں اُٹھیں۔ کروڑوں مسلمانوں نے ان تحریکوں کا ساتھ دیا۔ اس جدوجہد کے دوران جان و مال کی اتنی زیادہ قربانی دی گئی جو اس سے پہلے ہزار سال کی مدت میں بھی نہیں دی گئی تھی۔ مگر انجام کار کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ کوششیں سب کی سب عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ 8۔ میرے نزدیک اس ناکامی کا بنیادی سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ موجودہ زمانے کی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues