Al-Risala · April 2007 · page 15

فإن القتال سبيل الرشاد هلم نقاتل هلم نقاتل

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵

روایتی ذہن کی غمازی کرتا ہے۔ مسلح جہاد اقتدار کے خلاف ہوتا ہے۔ مسلح جہاد کو اپنا طریقہ کار بتانے کا مطلب یہ ہے کہ تحریک کے سامنے جو نشانہ ہے وہ سیاسی اقتدار ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں یہ نشانہ صرف مقلدانہ ذہن کی علامت ہے، نہ کہ اجتہادی ذہن کی علامت۔

10۔ اصل یہ ہے کہ اس اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ دور حکومت اور دور ادارہ۔ پچھلے زمانے میں جب کہ اقتصادیات کا پورا نظام زراعت پر مبنی ہوتا تھا، تمام اسباب اور ذرائع کا تعلق حکومت سے ہوا کرتا تھا۔ حکومت کے باہر کسی کے لیے کوئی بڑا کام کرنے کے مواقع موجود نہ تھے۔ موجودہ زمانے میں یہ صورت حال بدل گئی ہے۔ اب ایک نئی چیز ظہور میں آئی ہے جس کو ادارہ (institution) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حکومت کی حیثیت محدود طور پر انتظامیہ (administration) کی ہوگئی ہے۔ اس کے باہر بے شمار شعبے ہیں جن کا تعلق اداروں (institutions) سے ہے اور ان کو حکومت کے بغیر آزادانہ طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ نئے انقلاب نے سیکڑوں قسم کے نئے شعبے پیدا کیے ہیں جن کو ادارہ کی صورت میں بھر پور طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ ان اداروں نے موجودہ زمانے میں آزاد متوازی سلطنت کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ مثلاً ایجوکیشن، جرنلزم، مالیاتی تنظیمیں، سوشل سروس، پروفیشنل ادارے، میڈیا، مطبوعاتی تنظیمات، اس طرح کی سیکڑوں غیر حکومتی تنظیمات (NGO's) ہیں جن کو اقتدار کے بغیر قائم کر کے تقریباً ہر وہ کام انجام دیا جا سکتا ہے جن کے لیے قدیم زمانے میں سیاسی اقتدار ضروری سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے کے رہنما دور حکومت کے ذہنی نقشہ میں سوچتے رہے۔ وہ دور ادارہ کے ذہنی نقشہ میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اس لیے یہ رہنما حکومتی اقتدار سے ٹکراؤ کرتے رہے اور ایک طرفہ تباہی کے سوا وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری طرف ایسے رہنما بھی ہیں جنھوں نے بظاہر پولیٹکل اقتدار حاصل کیا۔ چنانچہ بنگلہ دیش سے لے کر ایریٹیریا تک 57 مسلم ممالک ہیں جو مسلم رہنماؤں کی کوشش کے نتیجہ میں وجود میں آئے، مگر 57 مسلم ریاستوں کے قیام کے باوجود احیاء اسلام یا احیاء ملت کا کام کسی بھی درجے میں انجام نہ پا سکا۔ مسلم ملت

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page