کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷
کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
کلچرل ہیریٹج (cultural heritage) اُسی چیز کا دوسرا نام ہے جس کو عام طور پر ہسٹاریکل مانیومینٹ (historical monument) کہا جاتا ہے۔ مقامی ریفرنس کے اعتبار سے وہ کلچرل ہیریٹج ہے اور یونیورسل ریفرنس کے اعتبار سے وہ ہسٹاریکل مانیومینٹ۔ کلچرل ہیریٹج یا ہسٹاریکل مانیومینٹ کی اہمیت اسلامی ٹریڈیشن میں بھی وہی ہے جو دوسرے ٹریڈیشن یا ڈسپلن میں مانی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن (preservation) انسانیت کے اُن عمومی معاملات میں سے ہے جس میں سکولر پوائنٹ آف ویو اور اسلامک پوائنٹ آف ویو کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اسلام کے مطابق بھی وہ بلاشبہ اس قابل ہے کہ اُس کو پر یزرو کیا جائے۔ ماضی کے ریکارڈ کو اگر محفوظ نہ رکھا جائے تو مستقبل کی نسلوں کے لیے علم کا ایک معتبر ذریعہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسا تاریخی نقصان ہے جس کی تلافی کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں۔
اسلام فطرت کا دین ہے۔ ہر وہ چیز جو فطرت اور ریزن کے مطابق قابل لحاظ ہو، وہ یقیناً اسلام میں بھی قابل لحاظ قرار پائے گی۔ کسی چیز کا فطری تقاضا ہونا بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اسلام کا تقاضا بھی ہے۔
اسلامی شریعت میں ایک اہم اور مسلمہ اصول یہ ہے کہ: الأصل فى الاشياء الإباحة (چیزوں میں اصل ان کا مباح ہونا ہے) اس شرعی اصول کی روشنی میں دیکھیے تو کلچرل ہیر ٹیج کو پر یزرو کرنا یقینی طور پر اسلام میں ایک جائز کام ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سنت میں کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ کلچرل ہیر ٹیج کو پر یزرو نہ کرو۔ اور جب قرآن اور سنت میں اس قسم کی کوئی ممانعت موجود نہیں تو کلچرل ہیر ٹیج کو پر یزرو کرنا اپنے آپ جائز قرار پائے گا۔ اس عمل کو جائز ٹھہرانے کے لیے مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔
تاہم قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کلچرل ہیر ٹیج کی اہمیت کے بارے میں ایسے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues