کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۱۸
حوالے بھی موجود ہیں جو اِس کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے براہِ راست ثبوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں اسلامی مآخذ سے چند متعلق حوالے درج کیے جاتے ہیں۔ 1۔ قرآن میں اس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تم میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ یا کوئی علم جو چلا آتا ہو (46:4) قرآن کی اس آیت میں ’اثرۃ من علم‘ کا مطلب (remnant of knowledge) ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آج کل کی زبان میں آرکیالوجیکل ریکارڈ یا ہسٹاریکل ریکارڈ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا ریکارڈ ماضی کے واقعات کو جاننے کے لیے نہایت اہم علمی ذریعہ ہے۔ ایسی حالت میں ماضی کے اس ریکارڈ کو محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے، علمی نقطۂ نظر سے بھی اور اسلامی نقطۂ نظر سے بھی۔ 2۔ کلچرل ریکارڈ یا ہسٹاریکل ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کی ایک عملی مثال قرآن میں وہ ہے جو فرعون کے تذکرہ کے ذیل میں آئی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موسیٰ کا ہم عصر فرعون جب غرق ہو کر مرا تو اللہ تعالیٰ نے اُس سے فرمایا کہ آج ہم تمھارے بدن کو محفوظ رکھیں گے تا کہ وہ تمھارے بعد والوں کے لیے نشانی ہو (10:92)
جیسا کہ معلوم ہے، مذکورہ فرعون کا جسم مصری رواج کے مطابق، مرنے کے بعد مومیائی کر کے ایک اہرام میں رکھ دیا گیا تھا۔ یہ بلاشبہ قدیم مصری کلچر کا ایک حصہ تھا۔ مصری کلچر کا یہ حصہ خود خدا کے منصوبے کے تحت محفوظ رہا، یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخر میں اُس کو مصر کے ایک اہرام سے نکالا گیا۔ اور کاربن ڈیٹینگ کے جدید طریقہ کو اپلائی کر کے یہ معلوم ہوا کہ یہ وہی فرعون ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق ہوا تھا۔ فرعون کا یہ محفوظ جسم قاہرہ کے میوزیم میں قرآن کی مذکورہ آیت کی ایک شہادت کے طور پر آج بھی رکھا ہوا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، فرعون ایک مشرک بادشاہ تھا۔ اس کے باوجود اللہ کی مرضی یہ ہوئی کہ اُس کے جسم کو محفوظ رکھا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کلچرل ہسٹری کی نہ صرف عام چیزیں بلکہ مشرک بادشاہ کا جسم بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ بامیان میں واقع بودھ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues